ٹی آر ایس کے دوہرے رویہ کے خلاف مسلمانوںکو اُٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت: کے وینکٹ ریڈی
حیدرآباد۔/8 جنوری، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ حلقہ بھونگیر مسٹر کے وینکٹ ریڈی نے تلنگانہ حکومت کو جھنجوڑنے اور سوال کرنے والی آواز گونجنے کیلئے ریاست میں جاریہ ماہ منعقد ہونے والے بلدی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی عوام سے پرزور اپیل کی اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی زیر قیادت ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ مرکز میں وزیر اعظم نریندر مودی کے گُن گارہے ہیں اور ریاست میں اسد اویسی کا ’ پہاڑا ‘ پڑھتے ہوئے دوہرا معیار اختیار کررہے ہیں ۔ چیف منسٹر کے اس دوہرے معیار پراپنی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ بھونگیر نے بالخصوص اقلیتوں ( مسلمانوں ) سے سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے اور اس رویہ کے خلاف مسلمانوں سے ٹی آر ایس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ مسٹر وینکٹ ریڈی آج ضلع نلگنڈہ کے مارکٹ میں واقع ہوٹل ویویرا میں منعقدہ کانگریس پارٹی قائدین و کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو ہدف ملامت بنایا اور اپنی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ جیسی دولت مند و فاضل بجٹ رکھنے والی ریاست کو لاکھوں کروڑ کے قرضوں سے دوچار کرکے ریاست میں کوئی ایک فلاح و بہبود اسکیم پر عمل آوری نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں منعقد ہونے والے مجوزہ بلدی انتخابات کے ذریعہ کانگریس پارٹی کی دوبارہ کامیابی کا آغاز ہوگا اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی کا موقف مکمل طور پر کمزور ہوجائے گا۔ رکن پارلیمان بھونگیر نے مسٹر کے ٹی راما راؤ کے بیان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ خود ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق و انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر کے ٹی راما راؤ نے خود واضح طور پر کہا کہ کانگریس پارٹی کو کبھی بھی کمزور پارٹی تصور نہیں کرنا چاہیئے۔ مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کانگریس پارٹی کے تعلق سے خود مسٹر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے کئے ہوئے اعتراف سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو بلدی انتخابات میں نچلی سطح سے مضبوط بنانے کیلئے پارٹی قائدین سے کمر بستہ ہوجانے کی پرزور اپیل کی۔ انہوں نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں گروپ بندیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت ٹی آر ایس میں 14 گروپس پائے جاتے ہیں اور ان گروپس کی جانب سے صدر پارٹی کے خلاف علم بغاوت کرنے کا وقت بہت جلد آئے گا اور اس طرح آئندہ چار سال بعد ریاست تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کا برسر اقتدار آنا یقینی ہے۔
