تلنگانہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی بدولت ریاست مقروض

   


مرکزکی اسکیمات کو تبدیل کرکے ریاست کے نام پر دھوکہ دہی: نرملا سیتا رامن

کاماریڈی:2؍ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مرکزی وزیر فینانس نرمیلا سیتارامن نے ظہیر آباد حلقہ کے پارلیمانی کے دورہ کے سہ روزہ دورہ کے تحت صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت ان کے بجٹ سے بھی زیادہ قرض کرتے ہوئے اس کا بوجھ عوام پر عائد کررہی ہے ۔ 8 سالہ دور حکومت میں مرکز کی اسکیم کو تبدیل کرتے ہوئے خود کی اسکیم کی طرح پیش کررہے ہیں ۔ نرمیلا سیتارامن نے کہا کہ ریاستی حکومت کے قرض کی وجہ سے ہر پیدا ہونے والے بچہ پر 1.25لاکھ روپئے کا قرض ہے ریاستی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ریاست قرضوں میں ڈوب چکا ہے ۔ریاست کے تحفظ کیلئے کے سی آر کو برطرف کرنا عوام کی ذمہ داری ہے۔ نرملا سیتارامن نے کہا کہ مرکزی اسکیمات کو نام تبدیل کرتے ہوئے پیش کرنے پر مرکزی حکومت کی جانب سے کس بارے میں واضح طور پر سوال کرے گی اور اس کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے پرائم منسٹر آواز یوجنا اسکیم کے تحت امکنہ جات کی تعمیر کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن یہاں پر اس کا نام تبدیل کرتے ہوئے ایک نام ڈبل بیڈ روم رکھا گیا نیشنل کوآپریٹیو فصل بیمہ آیوش مان بھارت اسکیمات کے نام بھی تبدیل کئے گئے۔ طمانیت روزگار اسکیم پر بھی تلنگانہ حکومت کی جانب سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 8 سالوں میں مرکزی حکومت کی جانب سے 20کروڑ روپئے مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کئے گئے اسکیم میں ہونے والی دھاندلیوں، فنڈس کا غلط استعمال پر مرکزی حکومت کی جانب سے اس بارے سروے کیا جارہا ہے ۔ نرمیلا سیتارامن نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر رائو اپنے آپ کو وزیر اعظم کا چہرہ سمجھ رہے ہیں ۔اور بہار میں ان کی پریس کانفرنس ہنسی مذاق بن گئی ہے ۔ کالیشور پراجیکٹ کا تخمینہ تین گنا اضافہ کیا گیا کالیشورم پراجکٹ آبی سہولتوں کی فراہی کیلئے یا روپیوں کی فراہمی کیلئے ہے ۔انہوں سوال کرتے ہوئے کہا کہ 39,500 ہزار کروڑ روپئے کا تخمینہ کرتے ہوئے 1لاکھ 20 ہزار کروڑ کو اضافہ کیا گیا اور ابھی تک متاثرہ خاندانوں کی مدد نہیں کی گئی ۔ اس موقع پر ضلع بی جے پی صدر ارونا تارا کے علاوہ رامنا ریڈی و دیگر قائدین بھی موجود تھے۔