تلنگانہ حکومت کے نظم و نسق میں ردوبدل کی تیاری

   

حیدرآباد ۔ 2 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی سے متعلق ایگزٹ پولس کی پیش قیاسی کے ساتھ ہی نظم و نسق میں مکمل ردوبدل کی تیاری کی جارہی ہے۔ اگر کانگریس حکومت تشکیل دیتی ہے تو ان تمام لوگوں کو جو کون کس کے ہیں، بشمول ٹاپ عہدیداروں جیسے ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کو ہٹادیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے کہا تھا کہ وہ بی آر ایس کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ آئندہ چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کون ہوں گے، اس پر تبادلہ خیال ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض ’ریڈی‘ عہدیدار جنہیں اچھی کارکردگی کے باوجود اعلیٰ عہدے نہیں دیئے گئے ان اعلیٰ عہدوں کیلئے دوڑ میں ہیں۔ مشیروں اور ریٹائرڈ عہدیداروں کو نکال دیا جائے گا کیونکہ ریونت ریڈی نے ریٹائرڈ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کی خدمات حاصل کرنے پر بی آر ایس حکومت پر شدید تنقید کی تھی۔ ذرائع نے کہا کہ بی آر ایس حکومت میں جن لوگوں کو اچھے عہدے حاصل نہیں ہوئیہیں انہیں اب موقع حاصل ہوگا یہ ایک بڑا ردوبدل ہوگا۔ بعض ڈیپوٹیشن پر جاسکتے ہیں بعض کو مقدمات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ریونت ریڈی نے پربھاکر راؤ، رادھا کرشنا راؤ، بھوجنگ راؤ، نرسنگ راؤ اور بعض دیگر پر بہت تنقید کی تھی، دراصل ریونت ریڈی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے سینئر آئی اے ایس عہدیداروں اروند کمار، جیش رنجن اور حکومت کے مشیر سومیش کمار کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات یقینی ہو۔