ٹی آر ایس کی رکنیت سازی مہم میں شدت کا فیصلہ، نشانہ کی تکمیل کرنے پارٹی کا زور
حیدرآباد۔7جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرسمیتی نے ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے خطرہ محسوس کرنا شروع کردیا ہے اور اپنی رکنیت سازی مہم میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے پارٹی قائدین کو اس بات کا پابند بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ پارٹی کی جانب سے دئیے گئے نشانہ کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔ تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکنیت سازی کے آغاز کیلئے مرکزی وزیر داخلہ و سربراہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسٹر امیت شاہ کی آمد کے بعد تلنگانہ راشٹر سمیتی نے پارٹی کی رکنیت سازی مہم کی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب کانگریس کو جس طرح ہائی کمان پارٹی کہا جاتا تھا اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی نشانہ بنانے کی ہدایت دی گئی ہے اورکہا جا رہاہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی ہی تلنگانہ عوام کے گھر کی پارٹی اور اس پارٹی کے استحکام کے ذریعہ ہی تلنگانہ کی ترقی ممکن ہوگی۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے اب تک سیکولر ازم کی دہائی دیتے ہوئے ریاست میں امن وامان کی برقراری اور ریاست کی گنگا جمنی تہذیب کے حوالے دیئے جاتے تھے لیکن اب اس کے بجائے پارٹی نے دوبارہ علاقہ وارایت اور مقامی و غیر مقامی کے مسائل کے ساتھ فیصلہ کے اختیارات پر بحث شروع کردی ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی کئی امور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو تائید کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے کی سنجیدہ حکمت عملی نے تلنگانہ راشٹر سمیتی کو مخمصہ میں ڈال دیا ہے کیونکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے طلاق ثلاثہ ‘ کرنسی تنسیخ‘ ایک ملک ایک انتخابات اور جی ایس ٹی جیسے امور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو راست اور بالواسطہ تائید کے بعد بھی بی جے پی کی جانب سے اختیار کردہ موقف سے پارٹی قیادت حکمت عملی تبدیل کرنے کے سلسلہ میں غور کر رہی ہے لیکن ریاست کی موجودہ صورتحال میں ٹی آر ایس کسی ایسی تبدیلی کے حق میں نہیں ہے جو کسی بھی طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچاسکے لیکن اس کے باوجود بی جے پی کی جانب سے ٹی آر ایس کے ہر فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین کی جانب سے سرکردہ قائدین کو اس بات سے واقف کروایاجا چکا ہے کہ تلنگانہ اضلاع میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے لیکن ریاست گیر سطح پر تلنگانہ راشٹرسمیتی ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کے موقف میں نہیں ہے کیونکہ پارٹی کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ ریاستی سطح پر کیا جانا ہوگا کیونکہ ریاست میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حکومت ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سربراہ تلنگانہ راشٹر سمیتی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پارٹی کے تمام قائدین کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے دور رہنے اور پارٹی کی اجازت کے بغیر ٹیلی ویژن چیانلس کے مباحث میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں اور کہا ہے کہ اس پر سختی سے عمل کیا جائے کیونکہ ان کا احساس ہے کہ ٹی آرایس قائدین کی جانب سے اختیار کردہ موقف سے بھارتیہ جنتا پارٹی فائدہ اٹھاسکتی ہے اسی لئے تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین کو پارٹی کے موقف سے ہٹ کر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ اسی طرح پارٹی کی جانب سے ضلع واری اساس پر ترقیاتی منصوبہ تیار کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے تاکہ تمام اضلاع کا احاطہ کیا جاسکے لیکن حکومت کی جانب سے ضلع واری ترقیاتی منصوبہ کو منظوری حاصل ہونا انتہائی مشکل ہے اور تلنگانہ راشٹر سمیتی میں موجود سینیئر قائدین اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں اسی لئے وہ اس پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔
