اسمبلی تحلیل کی حکمت یا پھر اسمبلی اجلاس پر غوروخوض، مختلف قیاس آرائیاں
حیدرآباد۔31۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ اور ملک کے سیاسی حالات اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کی سرگرمیوں کے علاوہ بی جے پی قائدین کے دورۂ تلنگانہ کے پیش نظرریاستی کابینہ کے 3 ستمبر کو منعقد ہونے والے اجلاس کی اہمیت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ریاستی کابینہ کے اجلاس اور اسی دن شام کو تلنگانہ راشٹر سمیتی مقننہ پارٹی کے اجلاس کے انعقاد پر مختلف گوشوں سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور اسمبلی کی تحلیل کے پیش قیاسی کی جانے لگی ہے لیکن ریاستی حکومت کے ذرائع اس طرح کے کسی منصوبہ کی تردید کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ریاستی اسمبلی کے اجلاس کو قطعیت دینے کے لئے ریاستی کابینہ کا اجلاس منعقد کیا جا رہاہے اور اسمبلی اجلاس کے دوران ریاستی اسمبلی میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے موقف کے متعلق حکمت عملی کی تیاری کے لئے پارٹی کا مقننہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ چیف منسٹر کے حالیہ دورۂ اضلاع اور ان کی مصروف ترین سرگرمیوں کے علاوہ منعقد کئے جانے والے جائزہ اجلاس کو دیکھتے ہوئے اسمبلی کی تحلیل کے فیصلہ کو نظر انداز نہیںکیا جاسکتا کیونکہ ان مبصرین کا کہناہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نجومیوں کی بات پر زیادہ یقین رکھتے ہیں اور ان کے نجومیوں نے انہیں سال 2022 کے دوران انتخابات کے انعقاد کو ان کے لئے بہتر قرار دیا ہے ۔ کے سی آرکے لکی نمبر کے متعلق یہ مشہور ہے کہ ان کے لئے نمبر 6ہے اسی لئے نجومیوں کا کہناہے کہ سال 2022 میں ہی انتخابات کے انعقاد کی صورت میں 2+0+2+2جمع کئے جائیں تو 6 ہوگااسی لئے وہ چیف منسٹر کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ جاریہ سال کے اختتام سے قبل انتخابات کے انعقاد کویقینی بنائیں اسی لئے 3ستمبر کو منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے متعلق کئی قیاس لگائے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا ماننا ہے کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہوا ہے وہ نہ صرف سوتیلا سلوک ہے بلکہ مرکز کا ریاست کے ساتھ سلوک حریف کی طرح ہے ۔ تلنگانہ کو قرض کے حصول سے روکنے کے لئے کوششوں کے علاوہ تلنگانہ سے وصول طلب بقایاجات کی ادائیگی کی ہدایات کے ذریعہ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی تلنگانہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں منگوڑ حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ میں اپنے حلقہ اثر کو ثابت کرنے کی کوشش کرسکتی ہے اسی لئے تلنگانہ راشٹرسمیتی کی جانب سے اسمبلی کی تحلیل کے قیاس لگائے جانے لگے ہیں لیکن کہا جا رہاہے کہ ٹی آر ایس قائدین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی انتخابات کا انعقاد ہوگا یا نہیں ! کیونکہ گذشتہ اسمبلی انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ریاستی اسمبلی کی تحلیل کے فوری بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا نے تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی تواریخ کا اعلان کردیا تھا لیکن اس مرتبہ ایسا کئے جانے کے امکانات موہوم ہیں۔ ریاستی حکومت کے کابینہ اجلاس کے متعلق عہدیداروں کا کہناہے کہ کابینہ کے اجلاس کے فوری بعد تلنگانہ راشٹرسمیتی مقننہ پارٹی کا اجلاس منعقد کئے جانے کے سبب اسمبلی کی تحلیل کے شبہات پیدا ہونے لگے ہیں حالانکہ اسمبلی کے اجلاس کے سلسلہ میں یہ کہا جارہا ہے کہ 15ستمبر سے اسمبلی اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا اور اگر اتنا وقت ہے تو ایسی صورت میں کابینہ کے اجلاس کی شام ہی مقننہ پارٹی کے اجلاس کے انعقاد کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں کہا نہیںجاسکتا۔ذرائع کے مطابق ریاستی کابینہ کے اجلاس کے دوران دلت بندھو اسکیم پر عمل آوری‘منگوڑ حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات ‘ مرکز اور تلنگانہ کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والے بگاڑ کے علاوہ مرکزی و ریاستی حکومت میں جاری رسہ کشی کے سبب پیدا شدہ معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے علاوہ دیگر امور بھی زیردوراں لائے جانے کی توقع ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کابینہ کے اجلاس کے دوران اگر اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ نہیںکیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی سرکاری طور پر بی جے پی کے مقابلہ کے لئے منصوبہ کی تیاری کرتے ہوئے اس کا اعلان کرسکتی ہے کیونکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کا یہ احساس ہے کہ اگر بی جے پی کو ’اینٹھ کا جواب پتھر‘ سے نہیں دیا جاتا ہے تو ایسی صور ت میں بی جے پی ریاست میں خوف وہراس کی سیاست پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ اسی طرح فرقہ وارانہ منافرت کے فروغ کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین اشتعال انگیز بیانوں کے علاوہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بدنام کرنے کے لئے پارٹی کے ذمہ دار قائدین کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یا سی بی آئی کے ذریعہ کاروائی کرتے ہوئے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر سکتی ہے اسی لئے تلنگانہ میں برسراقتدار ٹی آر ایس اپنے قائدین کو بدنامی سے بچانے اور عوام کے درمیان ساکھ متاثر ہونے سے قبل انتخابات کے لئے جانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے جبکہ آئندہ اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا انحصار الیکشن کمیشن آف انڈیا کے فیصلہ پر ہوگا۔م