تلنگانہ ریاست میں اقتدار کی تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں

   

کے سی آر حکومت کے عہدیداروں کا وفاداریاں تبدیل کرنے پر غور
حیدرآباد۔25۔نومبر(سیاست نیوز) ریاست میں اقتدار کی تبدیلیوں کی قیاس آرائیوں کے ساتھ ہی کے سی آر حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دینے والے عہدیداروں نے اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کے سلسلہ میں غور کرنا شروع کردیا ہے اور بعض عہدیدار تلنگانہ کے بجائے مرکزی حکومت کی خدمات کو ترجیح دیتے ہوئے مرکزی حکومت کے محکمہ جات اور وزارتوں میں مخلوعہ عہدوں کے حصول کی کوششوں کا آغاز کرچکے ہیں۔ ریاستی حکومت میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں میں وہ عہدیدار جنہوں نے محکمہ آبپاشی اور زراعت میں خدمات انجام دی ہیں وہ اپنی آل انڈیا سروس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاست سے خدمات کی برخواستگی یا پھر کانگریس کے سرکردہ قائدین سے تعلقات کو استوار کرنے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ کانگریس کی جانب سے گذشتہ 9 برس کی حکمرانی کے دوران ہونے والی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کروائے جانے کے اعلان کے بعد عہدیداروں میں ایک انجان خوف پیدا ہوچکا ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اگر ریاست میں حکومت تبدیل ہوتی ہے اور کانگریس اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو صرف سیاسی قائدین ہی نہیں بلکہ عہدیداروں کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوجائیں گی اسی لئے وہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے تلنگانہ چھوڑنے کی تیاری کرنے لگے ہیں۔ریاست میں گذشتہ 9 برسوں کے دوران کئی اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دینے والے ایک عہدیدار نے نجی ملاقات کے دوران کہا کہ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں اور ان اثرات کو دیکھتے ہوئے کئی عہدیداروں میں خوف پایا جانے لگا ہے کیونکہ اگر گذشتہ 9برسوں کی اعلیٰ سطحی برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کروائی جاتی ہے تو ان کی خدمات بھی مشکل میں پڑسکتی ہیں اور ان کا مستقبل بھی تاریک ہونے کا خدشہ ہے۔ انہو ںنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ عوام میں جو مخالف حکومت لہر دیکھی جار ہی ہے اس کا اندازہ عہدیداروں کوبھی ہونے لگا ہے اور جو عہدیدار بی آر ایس حکومت سے قربت رکھتے ہوئے کام کررہے تھے وہ اپنے بچاؤ کے لئے کوششیں شروع کرچکے ہیں ۔ذرائع کے مطابق کے سی آر خاندان کے ساتھ وفادار رہنے والے اور ان کے اشاروں پر کام کرنے والوں کو کے سی آر اور ان کے افراد خاندان نے اب تک یہ طمانیت دے رکھی تھی کہ انہیں کوئی مشکل صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن اب وہ خود بھی یہ طمانیت دینے سے قاصر ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اپنے طور پر مستقبل کے متعلق فیصلہ کریں۔