تلنگانہ ریاست میں ماقبل آزادی جائیدادوں کے ریکارڈس تباہ کرنے کی سازش

   

چیف کمشنر آف لینڈ اڈمنسٹریشن کے دفتر میں موجود اُردو ریکارڈ سیکشن مہربند، چھت کسی بھی وقت منہدم ہونے کا امکان

حیدرآباد۔11۔جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ریاست میں ماقبل آزادی جائیدادوں کے ریکارڈس تباہ کرنے کے درپہ ہے! ریاستی حکومت کی جانب سے صرف وقف بورڈ کا ریکارڈ سیکشن مہر بند نہیں کیا گیا ہے بلکہ چیف کمشنر آف لینڈ اڈمنسٹریشن کے دفتر میں موجود اردو ریکارڈ سیکشن کو بھی مہر بند رکھا گیا جس کی چھت کسی بھی وقت منہدم ہونے سے ریکارڈ تباہ ہو جائے گا۔ چیف کمشنر لینڈ اڈمنسٹریشن کے دفتر میں موجود’اردو ریکارڈ‘ سیکشن کو کئی برسوں سے بند رکھا گیا ہے اور اگر کوئی اردو ریکارڈس کے لئے دفتر سے رجوع ہوتا ہے تو یہ کہہ دیا جاتا ہے دفتر مقفل ہے اور اس سیکشن میں کوئی داخل نہیں ہوسکتا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 2017 میں وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کو مہر بند کئے جانے کے بعد سے اب تک اس سیکشن کو کھولنے کے سلسلہ میں کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے بلکہ جب کبھی اس مسئلہ پر توجہ دلوائی گئی ریاستی حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے زبانی احکامات پر ریکارڈ سیکشن کو مہربند کیا گیا ہے جبکہ اس مہربند سیکشن میں ریاست تلنگانہ کے ریکارڈ س کے علاوہ پڑوسی ریاست آندھراپردیش کے ریکارڈس بھی موجود ہیں ۔وقف بورڈ سے منتخب ‘فرامین‘ احکامات ‘ زرعی و غیر زرعی اراضیات کے ریکارڈس ‘ درگاہوں ‘ مساجد اور عیدگاہوں کے علاوہ منادر کو مٹھ کے لئے سلطنت آصفیہ کی جانب سے حوالہ کردہ اراضیات کے ریکارڈس چیف کمشنر لینڈ ریکارڈس کے دفتر میں موجود ہیں اور ان ریکارڈس کے لئے رجوع ہونے والوں کو یہ کہا جا رہاہے کہ CCLA میں موجود اردو سیکشن کو مستقل طور پر بند کردیا گیا ہے کیونکہ دفتر میں کوئی اردوداں عہدیدارموجود نہیں ہے جو ان ریکارڈس کی جانچ کرسکے یا انہیں محفوظ رکھنے کے اقدامات کرسکے۔ سی سی ایل اے کے دفتر میں موجود اردو ریکارڈس کے اس سیکشن کو مقفل کردیئے جانے کے بعد کئی مرتبہ اس کمرہ کی چھت سے گچی گرکر انتہائی اہم ریکارڈس پر پڑی ہوئی ہے اور اگر فوری طور پر ان ریکارڈس کو محفوظ کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیںتو ایسی صورت میں اردو زبان میں موجود تمام ریکارڈس تلف ہونے کا خدشہ ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل تلنگانہ کے بعد تمام طبقات کے ساتھ مساوی سلوک کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ریاست میں مسلمانوں کی جائیدادوں اور اراضیات کے ریکارڈس کو تلف کرنے کی منظم سازش جاری ہے ۔ چیف کمشنر لینڈ اڈمنسٹریشن کے دفتر میں موجود کسی ریکارڈ کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہے جو کہ اردو زبان میں موجود احکامات ‘ فرامین ‘ منتخب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔ ملک کی کسی بھی عدالت میں ان فرامین‘ احکامات‘ منتخب کو قانونی حیثیت حاصل ہے جس کی بنیاد پر اب تک جو جائیدادوں کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کو ممکن بنایا جاسکا ہے لیکن اب جس انداز میں مسلم جائیدادوں بالخصوص 1948 سے قبل کے ریکارڈ کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہاہے اسے دیکھتے ہوئے یہی کہاجاسکتا ہے کہ ریاستی حکومت منظم انداز میں مسلم جائیدادوں کے ریکارڈ کو تباہ کرتے ہوئے ان ریکارڈس تک کسی کی بھی رسائی کو باقی رکھنے کے حق میں نہیں ہے تاکہ کوئی بھی منتخب ‘ فرامین اور احکامات کی بنیاد پر اپنی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں ادعا پیش نہ کرسکے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کے ریکارڈ کو مہر بند کئے جانے کے بعد موقوفہ جائیدادوں کی تباہی کا سلسلہ شروع ہوا لیکن اس کے باوجود وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لئے کوشش کرنے والوں کی جانب سے CCLAاور شعبہ آرکائیوز سے رجوع ہوتے ہوئے ریکارڈس حاصل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے تھے لیکن گذشتہ 4برسوں سے سی سی ایل اے کے اردو ریکارڈسیکشن کو بھی مقفل کردیا گیا ہے اور کسی بھی ریکارڈ کے لئے رجوع ہونے والوں کو یہ کہا جار ہاہے کہ وہ ریکارڈس دینے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی اردو عملہ نہیں ہے علاوہ ازیں اعلیٰ عہدیداروں کے احکامات کی بنیاد پر اردو ریکارڈ سیکشن کو مستقل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ مولانا سیدشاہ ابوالفتح قادری بندگی پاشاہ رکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے بتایا کہ سابق میں ہزاروں فرامین تحفظ کی غرض سے حکومت نے اسٹیٹ آرکائیوز کے حوالہ کئے تھے جو کہ محفوظ کئے جاچکے ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ اگر ریاستی حکومت سی سی ایل اے میں موجود ریکارڈس کو بھی آرکائیوز کے حوالہ کرتے ہوئے اسے محفوظ کرنے کے اقدامات کرتی ہے تو آزادی سے قبل کے یہ ریکارڈس محفوظ ہوں گے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کو ایک مکتوب بھی روانہ کیا ہے ۔م