بلدیات اور دیگر شعبوں سے رقومات کا حصول، متعدد بلز منظوری کے منتظر
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔7جولائی۔ ریاست تلنگانہ کا خز انہ خالی ہے !ریاستی حکومت کے پاس تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بھی رقم موجود نہیں ہے! حکومت کی جانب سے ریاستی امور کی انجام دہی کیلئے بلدیات اور دیگر شعبوں میں جمع رقومات حاصل کی جا رہی ہیں!حکومت تلنگانہ کے محکمہ فینانس میں مختلف محکمہ جات کے بلز منظوری کے بعد بجٹ کی اجرائی کے منتظر ہیں لیکن محکمہ فینانس کی جانب سے ان کی عدم اجرائی کے ذریعہ ٹال مٹول سے کام لیا جا رہاہے او رکہا جا رہا ہے کہ جاریہ ماہ کے دوران ادارہ جات اور محکمہ جات اپنے طور پر کسی بھی طرح سے کام چلائیں حکومت کی جانب سے آئندہ ماہ کے اوائل یا جاریہ ماہ کے اواخر میں ان بلز کو منظوری دیتے ہوئے رقومات جاری کی جائیں گی۔ ریاست تلنگانہ کی مالی حالت کے سلسلہ میں گذشتہ 6ماہ کے دوران متعدد مرتبہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ریاست تلنگانہ مالی بحران کا شکار ہوتی جا رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے متعدد مرتبہ اس بات کی تردید کی جاتی رہی ہے مگر محکمہ فینانس کی جانب سے بجٹ کی اجرائی میں کئے جانے والے ٹال مٹول سے محکمہ جاتی عہدیداروں کو اس بات کا اندازہ ہونے لگا ہے کہ ریاست کی مالی حالت کیا ہے اور ریاست کو کس طرح سے اب تک چلایا جاتا رہاہے۔ ریاستی حکومت کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں گذشتہ 6برسوں کے دوران نئے اداروں کے قیام کے ذریعہ بینکوں سے قرض حاصل کیا جا تا رہا ہے اور ان اداروں کو حاصل ہونے والے قرض سے ریاست کے امور انجام دیئے جاتے رہے ہیں اور معمولی کاموں میں اب تک کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی ہے اب جبکہ قرض کے حصول کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے تو ریاست میں معمولی امور کے لئے بجٹ کی اجرائی میں بھی رکاوٹیں پیدا ہونے لگی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست کو فلاحی ریاست کے طور پر متعارف کروانے کیلئے جن اسکیمات کا اعلان کیا گیا تھا ان اسکیمات پر بھی مؤثر عمل آوری مشکل ہوتی جارہی ہیں اور حکومت کی جانب سے ریاست کی بلدیات اور دیگر محکمہ جات سے رقومات حاصل کرتے ہوئے مالی ضرورتوں کو پورا کیا جانے لگا ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے ایسے ادارہ جات جن کی راست آمدنی ممکن ہے ان اداروں کے اعلی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے طور پراپنے اداروں کی تنخواہوں کا فی الفور انتظام کریں اور ملازمین میں بے چینی پھیلنے نہ دیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کے ان احکامات کے بعد ہی مختلف محکمہ جات کی جانب سے عوام پر بھاری جرمانے عائد کئے جار ہے ہیں جس کے نتیجہ میں ان محکمہ جات و اداروں کو مالی دشورایوں کا سامنا نہیں کرنا پڑر ہا ہے ۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے ریاست میں کئی نئے کارپوریشن و ادارہ جات کا قیام عمل میں لایاجاچکا ہے اور ان کے صدورنشین کی نامزدگی بھی عمل میںلائی جاچکی ہے لیکن ڈائریکٹرس اور اراکین کے عہدوں کو مخلوعہ رکھا گیا ہے نہ صرف نئے اداروں میں یہ صورتحال ہے بلکہ عرصہ دراز سے خدمات انجام دینے والے ادارہ جات کی بھی یہی حالت ہے جہاں صرف صدرنشین کے عہدہ پر تقررات عمل میں لائے گئے لیکن اراکین و ڈائریکٹر نامزدکرنے سے اجتناب کیا گیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ نوتشکیل شدہ کارپوریشن اور اداروں کے نام پر قرض حاصل کرتے ہوئے ان اداروں کے مقاصد قیام کے مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ریاست تلنگانہ میں ڈسمبر 2018 کے دوران اسمبلی انتخابات سے قبل اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کسانوں کے لئے چلائی جانے والی اسکیمات رعیتو بیمہ اور رعیتو بندھو کیلئے اسمبلی انتخابات کے ضابطہ اخلاق کے خاتمہ کے بعد رقومات جاری کی جائیں گی لیکن اسمبلی انتخابات کے عمل کی تکمیل کے ساتھ ہی ریاستی حکومت کو پارلیمانی انتخابات کے لئے نافذ کئے جانے والے انتخابی ضابطہ اخلاق نے چند ماہ کی راحت دے دی اور ماہ مئی کے اواخر میں جب پارلیمانی انتخابات کے سلسلہ میں نافذ انتخابی ضابطہ اخلاق ختم ہوا تو ریاست میں چند ہفتوں قبل تک ادارہ جات مقامی کے سلسلہ میں نافذ ضابطہ اخلاق جاری رہا اور اب یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت اور وزراء پارٹی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ان کی مصروفیت ختم ہوتے ہی تمام امور کو حل کرلیا جائے گا جبکہ حکومت اور ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاریہ ماہ کے اواخر میں بلدی انتخابات کے اعلامیہ کی اجرائی کے سلسلہ میں غور کیاجا رہا ہے بلکہ تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور اس اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی ریاست میں دوبارہ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوجائے گا۔حکومت کے بیشتر محکمہ جات کے عہدیدار تلنگانہ کی مالی حالت کے سلسلہ میں متفکر ہیں اور ان کی جانب سے ریاست کو اس معاشی بحران سے نکالنے کے سلسلہ میں مرکزی امداد کے حصول کی تجاویز بھی حکومت کو روانہ کی گئی ہیں لیکن مرکزی حکومت کے بجٹ سے ریاستی حکومت کو توقع تھی لیکن مرکزی حکومت کے بجٹ سے بھی ریاست کو مایوسی کے سواء کچھ حاصل نہیں ہوا جس کے سبب یہ کہا جا رہاہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر میں انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے ذریعہ تمام فلاحی امور وغیرہ کو ایک مرتبہ پھر سے روک دیا جائے گا اور عوام سے وعدہ کیا جائے گا کہ انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد تمام اسکیمات پر من و عن عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔
