حکومت کے اعداد و شمار میں ایک فیصد سے بھی کم ریکارڈ
حیدرآباد۔19جنوری(سیاست نیوز) کورونا وائرس کی علامات اور کورونا وائرس کی توثیق کے متعلق ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد و شمارایک فیصد بھی نہیں ہیں کیونکہ ماہرین کے مطابق تلنگانہ کے تمام اضلاع کا جائزہ لیا جائے تو ریاست میں 20لاکھ افراد سے زائد کورونا وائرس کی علامتوں کا شکار ہیں اور وہ گھروں میں اپنا علاج کروارہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے اضلاع میں کئے گئے سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس کے معائنوں میں کمی کے سبب شہریوں کی جانب سے طویل قطاروں میں کھڑے ہوکر معائنہ کروانے سے گریز کیا جا رہاہے اور جو کووی سیلف کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں وہ اپنے طور پر معائنہ کررہے ہیں جبکہ جو لوگ معائنہ کے اخراجات کے بھی متحمل نہیں ہیں وہ کھانسی ‘ بخار ‘ نزلہ کے علاوہ اعضاء شکنی کا علاج کروارہے ہیں اور ڈاکٹرس کی جانب سے بھی معائنہ سے زیادہ علاج پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے کروائے جانے والے فیور سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست کے ہر دوسرے گھر میں کوئی نہ کوئی کورونا وائرس کی علامات کا شکار ہے اور انہیں ریاستی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ادویات کی کٹس حوالہ کرتے ہوئے 5یوم کی ادویات استعمال کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروںکا کہنا ہے کہ ریاست میں جن لوگوں میں علامات پائی جا رہی ہیں انہیں فیور سروے کے دوران دی جانے والی ادویات کے ذریعہ ٹھیک کیا جا رہاہے اور معائنوں میں اضافہ کے بجائے ان کے صحت مند ہونے پرتوجہ دی جا رہی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں کورونا وائرس کی علامات کا شکار 20لاکھ سے زائد افراد جو ہیں ان کا معائنہ نہیںکیا گیا ہے اورمحض علامات کی بنیاد پر ان کا علاج کیا جا رہاہے۔شہر حیدرآباد کے خانگی ڈاکٹرس سے دریافت کرنے پر اس بات کا انکشاف ہواہے کہ شہر کے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی علامات کا شکار ہے اور اپنا علاج کروا رہا ہے۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ علامات کا شکار ہونے کے باوجود بازاروں میں گھومنے اور سب کے درمیان رہنے کے سبب دوسرے شہری بھی متاثر ہورہے ہیں اور جس رفتار سے کورونا وائرس کی علامات شہریوں میں پائی جا رہی ہیں اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اگر ان کے معائنوں کے اقدامات کئے جائیں تو یومیہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعدادہزاروں میں پہنچ جائے گی۔کورونا وائرس کی علامات کے ساتھ موجود افراد اگر اپنے گھروالوں سے دور رہتے ہوئے اپنے گھروں تک محدود رہتے ہیں اور قرنطینہ اختیار کرتے ہیں تو ایسی صورت میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے امکانات کم ہوسکتے ہیں ۔ ریاستی حکومت نے کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران بھی آشا ورکرس کی مدد سے کئے گئے فیور سروے پر کورونا وائرس کے معائنوں سے زیادہ توجہ دی تھی جس کے نتیجہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کم رہی لیکن کورونا وائرس کے سبب ہونے والی اموات کے متعلق اعداد و شمار میں ریکارڈ کئے جانے والے فرق پر یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت اور محکمہ صحت کے فیور سروے کے نتائج منفی آرہے ہیں لیکن اب تیسری لہر کے دوران بھی حکومت کی جانب سے فیور سروے پر ہی انحصار کیا جا رہاہے۔م