بے قاعدگیوں میں اضافہ، میڑچل کے دلت خاندانوں کی 94 ایکر اراضی ہڑپنے کا الزام
حیدرآباد۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت رائو نے تلنگانہ کے نئے ریونیو ایکٹ میں غریبوں کے اراضیات کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت رائو نے کہا کہ ریونیو ڈپارٹمنٹ میں کرپشن اور بے قاعدگیاں عروج پر ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے نئے قانون کی تیاری کا فیصلہ کیا ہے جو قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے تحت کرپشن کی روک تھام اور غریبوں کی اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ غریبوں کو اراضیات کی فراہمی کے لیے آنجہانی اندرا گاندھی کے ذریعہ لینڈ سیلنگ ایکٹ پر عمل کیا گیا۔ کے سی آر کو چاہئے کہ وہ بھی اس قانون پر سختی سے عمل کریں اور ریاست کے مختلف اضلاع میں ریونیو ریکارڈ میں الٹ پھیر کے ذریعہ غریبوں کے اراضیات ہڑپنے کے واقعات پر روک لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ کیسرا منڈل ضلع میڑچل میں 1981ء میں 94 ایکر اراضی دلت خاندانوں میں تقسیم کی گئی تھیں۔ 2003ء میں ریونیو عہدیداروں نے ریکارڈ میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ اراضی سرمایہ داروں کے حوالے کردی۔ ہائی کورٹ کی جانب سے حکم التوا کے باوجود آر ڈی او اورضلع کلکٹر نے دلت خاندانوں کو اراضی سے محروم کرتے ہوئے پٹہ جات دولت مندوں کے نام جاری کردیئے۔ انہوں نے اس معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کروڑہا روپئے کی معاملت کے بعد ریکارڈ میں الٹ پھیر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک میں جس طرح سخت ریونیو قانون اختیار کیا گیا ہے، اسی طرح تلنگانہ حکومت کو شفاف قانون تیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی راما رائو نے پٹیل پٹواری نظام کو ختم کردیا جس سے بدعنوانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی پٹیل اور پٹواری اراضی کے مالکین کو اچھی طرح جانتے تھے لیکن اب رینیو عہدیدار کرپشن کے ذریعہ ریکارڈ میں الٹ پھیر کررہے ہیں۔ ہنمنت رائو نے کہا کہ دلت خاندانوں کو اراضی واپس دلانے تک کانگریس پارٹی کی جدوجہد جاری رہے گی۔