تمام رکاوٹیں دور،500کروڑ کے صرفہ سے 6 منزلہ عمارت، عنقریب تعمیر کا آغاز
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے سلسلہ میں ماحولیاتی منظوری حاصل ہوگئی ہے جس کے بعد تمام رکاوٹیں دور ہوچکی ہے۔ مرکزی وزارت ماحولیات نے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے سلسلہ میں پیش کردہ تجاویز کو منظوری دے دی ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے ماحولیاتی کلیئرنس کے لئے درخواست دی تھی۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے پہلے ہی نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کو منظوری دے دی ہے ۔ ریاستی حکومت انتہائی عصری سہولتوں سے آراستہ ہمہ منزلہ سکریٹریٹ کی تعمیر کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نئے کامپلکس کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ 400 تا 500 کروڑ کے خرچ سے نیا سکریٹریٹ 7 لاکھ مربع فٹ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا ۔ کامپلکس کے 6 فلور ہوں گے اور چھٹویں منزل پر چیف منسٹر کا دفتر رہے گا۔ چیف منسٹر نے نئے سکریٹریٹ کے پلان کو پہلے ہی منظوری دے دی ہے اور محکمہ عمارات و شوارع نے ٹنڈرس کے ذریعہ تعمیری کام کیلئے کمپنی کا انتخاب کرلیا ہے۔ چیف منسٹر کیلئے علحدہ باب الداخلہ رہے گا۔ 27 ایکر اراضی پر سکریٹریٹ کا علاقہ محیط رہے گا۔ صرف 20 فیصد اراضی عمارت کے لئے استعمال کی جائے گی ۔ حکومت نے قدیم عمارتوں کو منہدم کرتے ہوئے ملبہ کی صفائی کا کام مکمل کرلیا ہے ۔ ماحولیاتی منظوری کے بعد چیف منسٹر نے تعمیری کاموں کے آغاز کا عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا ۔ توقع ہے کہ تعمیری کام بہت جلد شروع کئے جائیں گے اور اس سلسلہ میں انجنیئرس کو ذمہ داریاں دے دی گئی ہیں۔ عمارت کے روبرو ہیلی پیاٹ تعمیر کیا جارہا ہے۔ پارکنگ کے لئے بھی علحدہ جگہ مختص کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ سکریٹریٹ کے احاطہ میں حکومت نے مسجد اور مندر کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا لیکن ابھی تک دونوں کا پلان منظر عام پر نہیں آیا ہے ۔