تلنگانہ سکریٹریٹ کے ملازمین پرُ جوش ، اقتدار کی تبدیلی پر جشن

   

غلامی سے نجات ، آمریت کا خاتمہ اور قفس کے بندھن سے آزادی
حیدرآباد۔6۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) ہندستان کی تاریخ میں کسی ریاست کے ملازمین نے حکومت کی تبدیلی پر ایسا جشن نہیں منایا ہوگا جس طرح سے تلنگانہ سیکریٹریٹ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین نے ریاست میں اقتدار کی تبدیلی پر جشن منایا۔ جشن منانے والے ملازمین نے کہا کہ تشکیل تلنگانہ پر انہوں نے غلامی سے نجات کا جشن منایا تھا اور اب آمریت کے خاتمہ اور آزادی کا جشن منا رہے ہیں۔سیکریٹریٹ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین جو بی آر ایس حکومت کے آمرانہ طرز حکمرانی سے عاجز آچکے تھے نے آج سیکریٹریٹ کے احاطہ میں جشن مناتے ہوئے رقص کیا اور کہا کہ تلنگانہ کو حقیقی آزادی اب حاصل ہوئی ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ گذشتہ 10 برسوں کے دوران انہیں قفس میں بند رکھا گیا تھا اور2 جو ن کو جب وہ کے چندر شیکھر راؤ اور کے ٹی راما راؤ سے اپنے مسائل کے ساتھ ملاقات کرنے کی کوشش کر رہے تھے اس وقت انہیں ان کے دفاتر میں مقفل کردیا گیا تھا تاکہ ان کی موجودگی میں عہدیداراور ملازمین دفتر سے باہر نہ نکلنے پائیں۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ اب وہ کھلی فضاء میں خدمات انجام دے پائیں گے جبکہ 10 سال کے دوران انہیں انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑاہے۔ دفاتر معتمدی میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے اس جشن کا حصہ بننے اور انہیں مبارکباد دینے کے لئے پہنچے پروفیسر کودنڈا رام ریڈی کو ملازمین اور عہدیداروں نے اٹھا لیا اور انہیں اٹھا کر رقص کرنے لگے ۔ پروفیسر کودنڈا رام نے اس جشن کا حصہ بننے کے بعد ذرائع کے ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے ملازمین کی کیا حالت کررکھی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست میں حکومت کی تبدیلی پر جشن منایا جارہا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ملازمین جب حکومت سے نالاں ہونے لگتے ہیں تو عوام کے مسائل جوں کے توں برقراررہتے ہیں ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اب وہ آزادی کے ساتھ کسی صحافی یا صحافتی ادارہ کے ذمہ داروں سے بات چیت کرپائیں گے کیونکہ اب ان کے فون کوئی سننے والانہیں ہے اور نہ ہی کوئی ان کے فون ٹائیپنگ کرے گا۔ملازمین نے بالواسطہ طور پر بی آر ایس حکومت پر ملازمین اور عہدیداروں کے فون ٹائیپنگ اور ان کے فون سنے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے عہدیداروں اور ملازمین کی تنظیموں کے نام نہاد قائدین کے ذریعہ خوفزدہ کرتے ہوئے ان پر شکنجہ کسا جاتا رہا لیکن اب وہ آزادی کے ساتھ ریاست کی ترقی کے لئے خدمات انجام دے پائیں گے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد جس طرح کے ماحول کی توقع کی گئی تھی اس کے برعکس ریاست میں آمرانہ طرز حکمرانی کو فروغ دیا جاتا رہا اور اب تلنگانہ کو غلامی سے حقیقی آزادی حاصل ہوئی ہے۔