تلنگانہ سے پرینکا گاندھی کا جذباتی لگاؤ : ندیم جاوید

   


دادی نے پارلیمنٹ میں میدک کی نمائندگی کی، ماں نے علاقہ کے عوامی جذبات کا احترام کیا

حیدرآباد 28 اگسٹ (سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کے سکریٹری و انچارج تلنگانہ کانگریس اُمور ندیم جاوید نے کہاکہ پرینکا گاندھی کو تلنگانہ سے جذباتی لگاؤ ہے۔ ان کی دادی آنجہانی اندرا گاندھی نے حلقہ لوک سبھا میدک سے نمائندگی کی تھی جبکہ ان کی والدہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے علیحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا تھا۔ ندیم جاوید نے سیاست نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ان کی آل انڈیا کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی سے ملاقات ہوئی۔ ریاست کی سیاست کو لے کر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ تلنگانہ سے پرینکا گاندھی کو جذباتی لگاؤ ہے۔ اُنھوں نے ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال اور ریاست کے ہر پارلیمانی حلقہ میں شامل اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی گرفت، مستقبل کے امکانات، طاقت اور کمزوری، مقامی کانگریس قائدین کی صلاحیت اور پارٹی میں اُن کی ضرورت کے علاوہ عوام سے رابطہ پیدا کرنے کے پروگرامس، کے سی آر اور بی جے پی کے خلاف ایک محاذ بنانے اور عوامی آواز بن کر اُبھرنے کے علاوہ تفصیلی گفتگو کی ہے۔ حال ہی میں تلنگانہ کے بعض قائدین کو دہلی طلب کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا اور جب بھی اُن کی ضرورت پڑے گی تلنگانہ کا دورہ کرنے کا تیقن دیا۔ انھیں اور مزید دو اے آئی سی سی سکریٹریز کو تلنگانہ کی صورتحال پر مسلسل رابطہ میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔ غلام نبی آزاد کے کانگریس سے مستعفی ہونے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے لئے بے حد افسوس ہے۔ غلام نبی آزاد 50 سال تک پارٹی کے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ جموں و کشمیر کے چیف منسٹر، مرکزی وزیر، راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن، آل انڈیا کانگریس کے جنرل سکریٹری کے علاوہ کانگریس کی فیصلہ ساز باڈی سی ڈبلیو سی کے لگاتار رکن رہے ہیں۔ بنیاد پرست طاقتوں بالخصوص مودی ۔ امیت شاہ اور آر ایس ایس سے مقابلہ کرنے کے مشکل حالت میں راہول گاندھی کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے اُنھوں نے راستہ تبدیل کرتے ہوئے نفرت کے سیاسی نظریہ فکر کو طاقت دینے کا کام کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد غلام نبی آزاد سیاسی حلقوں میں مشکوک ہوگئے ہیں۔ تلنگانہ سے بھی کانگریس کے سینئر قائد سابق رکن راجیہ سبھا ایم اے خان کے استعفیٰ پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ندیم جاوید نے کہاکہ کوئی بھی مستعفی ہوجائے انھیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ کانگریس ملک میں مختلف چیالنجس کا سامنا کررہی ہے۔ اقلیتوں اور پچھڑے طبقات پر کھلے عام ظلم و زیادتی کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے۔ مظلوموں کی آواز بن کر گونج رہی ہے۔ ا ن