اقلیتوں کے فلاح و بہبود کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات ، اقلیتی لڑکیوں کی تعلیم میں تلنگانہ ملک بھر میں سرفہرست‘یوم تاسیس تقریب چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد /2 جون ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ تشکیل ریاست کے مختصر عرصہ میں تلنگانہ ریاست نے مثالی ترقی کرکے ملک کیلئے رول ماڈل میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ اتنی فلاحی اسکیمات متعارف کروائی گئیں اور ترقیاتی اقدامات کئے گئے ۔ مرکزی حکومت اور ملک کی دیگر ریاستیں اس کی تقلید کرنے کیلئے مجبور ہوگئی ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے گن پارک پر مجاہدین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد سکریٹریٹ میں منعقد تقریب میں پرچم کشائی کرتے ہوئے حکومت کے 21 روزہ مختلف پروگرامس کا آغاز کیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ کے مختلف اصلاع خشک سالی کا شکار تھے ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد آبپاشی پراجکٹس پر خصوصی توجہ دی گئی ۔ کالیشورم پراجکٹ تعمیر کیا گیا ۔ مشن بھگیرتا پروگرام کے ذریعہ گھر گھر کو پینے کا پانی سربراہ کیا گیا تالابوں کو بحال کیا گیا ۔ کسانوں کو مفت برقی سربراہ کی گئی جس کے بعد تلنگانہ میں دوسرا زرعی سنہرا انقلاب شروع ہوا ۔ زرعی شعبہ کو ترقی دینے کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے محتلف فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا گیا ۔ تلنگانہ کو صحتمند ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے طبی سہولتوں کو مستحکم کیا گیا ۔ بڑے ہاسپٹلس قائم کئے گئے عصری انفراسٹرکچر فراہم کیا گیا ۔ مفت ٹسٹوں کے ساتھ مفت ادویات تقسیم کی جارہی ہے ۔ ڈاکٹرس و طبی عملہ کا تقرر کیا گیا ۔ مفت ڈیگناسٹک سنٹرس ، گردے کے مریضوں کیلئے مفت ڈائیلاسیس سنٹرس قائم کئے ، ہاسپٹلس کے بیڈس کو آکسیجن کی سہولت فراہم کی گئی متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ میں صرف 1400 آکسیجن پر مشتمل بیڈس تھے 9 سال میں اس کی تعداد کو برھاکر 27,966 کردی گئی ۔ 1442 اسسٹنٹ پروفیسرس کا تقرر کیا گیا ۔ ورنگل میں 1100 کروڑ روپئے کے مصارف سے 2 ہزار بیڈس پر مشتمل ہاسپٹل تعمیر کیا جارہا ہے ۔ خواتین کی صحت و تندرستی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ ریاست کے ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج قائم کرنے کا منصوبہ تیار کرکے کام کیا جارہا ہے ۔ پہلے 7 سال میں 12 میڈیکل کالجس قائم کئے گئے جاریہ سال مزید 9 میڈیکل کالجس قائم کرنے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ جس سے ریاست میں میڈیکل کالجس کی تعداد 26 تک پہونچ جائے گی ۔ گریٹر حیدرآباد کو عالمی درجہ کے شہر میں تبدیل کرنے خصوصی منصوبہ بندی تیار کرتے ہوئے ترقیاتی کام انجام دئے جارہے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں مسلسل پینے کے پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے 2214 کروڑ روپئے کے مصارف سے سنکشیلا میں ایک ذخیرہ آب تعمیر کیا جارہا ہے جس کے کام بہت جلد تکمیل کو پہونچ گئے ۔ انٹرنیشنل ایرپورٹ تک میٹرو ریل کو توسیع دی جارہی ہے ۔ ٹریفک مسائل کی یکسوئی کیلئے ایس آر ڈی پی پروگرام تیار کیا گیا ہے۔ 67 ہزار 149 کروڑ روپئے کے مصارف سے 42 ہم سڑکوں کی نشاندہی کرکے فلائی اوورس انڈر پاسیس ،آر او بی کو ترقی دی جارہی ہے ۔ 275 کروڑ روپئے کے مصارف سے 22 لنک روڈس کی تعمیرات کو مکمل کیا گیا ہے ۔ ریاست میں ہر غریب طالب علم کو کارپوریٹ طرز کی مفت تعلیم فراہم کرنے کیلئے 1002 اقامتی اسکولس و کالجس قائم کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ بنائی گئی ہے ۔ جس میں 5 لاکھ 59 ہزار طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جارہی ہے ۔ قیام و طعام کی تمام سہولتیں مفت فراہم کی جارہی ہیں ۔ ریاست کے سرکاری اسکولس کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ’’ ہمارا گاؤں ہمارا اسکول ‘‘ پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے ۔ ڈیجیٹل تعلیم کے ساتھ 12 بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں ۔ ریاست کے 26,005 سرکاری اسکولس کو تین مرحلوں میں ترقی دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے طلبہ کو 20 لاکھ روپئے تک اوورسیز اسکالرشپس فراہم کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ 9 سال میں تلنگانہ کو فلاحی اسٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ تلنگانہ میں لاء اینڈ آرڈر کو پوری طرح کنٹرول میں رکھا گیا اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔تلنگانہ میں اقلیتوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے کئی فلاحی اسکیمات پر عمل کیا جارہا ہے ۔ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے لڑکوں کے 107 لڑکیوں کیلئے 97 ریسیڈنشیل اسکولس قائم کئے گئے ۔ اقلیتی لڑکیوں کی تعلیم میں تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست ہے ۔ ریاست میں آئمہ موذنین کو ماہانہ 5 ہزار روپئے اعزازیہ دیا جارہا ہے ۔ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعہ اون یور آٹو ڈرائیور امپاورمنٹ اسکیم اوورسیز اسکالر شپس کے علاوہ دیگر اسکیمیات پر عمل کیا جارہا ہے۔ تمام عیدین و تہواروں کو سرکاری طور پر منایا جارہا ہے۔ غریب عوام کیلئے ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کئے جارہے ہیں کولور میں 124 ایکر اراضی پر 15,660 ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کئے گئے ۔ ہر اسمبلی حلقہ میں 3 ہزار افراد کو گرہا لکشمی اسکیم کے ذریعہ مکانات کیت عمیر کیلئے معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ریاست میں آئی ٹی کی انقلابی ترقی ہوئی ہے ۔ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے ۔ خانگی شعبوں میں لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دستیاب ہو رہے ہیں ۔ ن