تلنگانہ : لاک ڈاؤن میں 30اپریل تک توسیع ، یکم تا نویں جماعت تمام طلبہ کو پروموشن

,

   

Ferty9 Clinic

ایس ایس سی امتحانات پر عنقریب فیصلہ،ریاست میں کورونا کے 393 مریض زیر علاج، چیف منسٹر کے سی آر کی پریس کانفرنس

ایک بھی مریض وینٹلیٹر پر نہیں
تمام مریض 24 اپریل تک صحت یاب
243 علاقے نوانٹری زون

30اپریل کے بعد مرحلہ وار رعایت
تمام مذہبی اجتماعات پر پابندی
دن میں تحدیدات ،رات کا کرفیو برقرار

حیدرآباد۔/11 اپریل، ( سیاست نیوز ) تلنگانہ حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے توقع کے عین مطابق جاریہ لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھی ملک بھر میں لاک ڈاؤن کو 30 اپریل تک توسیع دیتے ہوئے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی مساعی کریں۔ تلنگانہ کابینہ کا اجلاس آج پرگتی بھون میں منعقد ہوا۔ ساڑھے چار گھنٹوں تک جاری رہے اجلاس میں لاک ڈاؤن کے علاوہ تعلیمی سال کے بارے میں اہم فیصلے کئے گئے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یکم تا نویں جماعت تک کے تمام طلبہ کو اگلی جماعتوں میں ترقی ( پروموٹ ) دی جائے گی کیونکہ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں امتحانات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ ایس ایس سی کے مابقی پرچہ جات کے امتحانات کے بارے میں جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تمام سرکاری اور خانگی اسکولوں پر طلبہ کو پروموٹ کرنے کے فیصلہ کا اطلاق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں توسیع کے فیصلہ کے مطابق دن میں تحدیدات رہیں گی جبکہ رات کا کرفیو برقرار رہے گا۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیاکہ اگر 30 اپریل تک ریاست میں کورونا وائرس کی صورتحال بہتر ہوتی ہے تو پھر حکومت مرحلہ وار رعایت دینے پر غور کرے گی۔ انہوں نے واضح کردیا کہ موجودہ حالات میں لاک ڈاؤن میں کسی رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور حکومت سختی سے لاک ڈاؤن پر عمل کرے گی کیونکہ یہی واحد راستہ ہے کہ ریاست کو کورونا سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں پہلے مرحلہ میں دیگر ممالک سے آنے والے 34 افراد کورونا سے متاثر پائے گئے جن کے ذریعہ بعض لوگوں تک وائرس پھیلا۔ پہلے مرحلہ کے تمام مریض ڈسچارج ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں 25,935 افراد کو شبہ کی بنیاد پر کورنٹائن کیا گیا تھا اور یہ تمام بھی گھر واپس ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ پہلے اور دوسرے یعنی جاریہ مرحلہ میں تلنگانہ میں کورونا پازیٹو کیسس کی تعداد بڑھ کر 503 ہوچکی ہے۔ ریاست میں اب تک 14 اموات واقع ہوئی ہیں۔ 96 افراد کو صحت مند ہونے پر ڈسچارج کردیا گیا اُن میں انڈونیشیا کے شہری بھی شامل ہیں۔ 393 مریض مختلف دواخانوں میں زیر علاج ہیں۔ تبلیغی مرکز کے واقعہ کے بعد 1200 افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹسٹ کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 1654 افراد شبہ کی بنیاد پر کورنٹائن سنٹرس میں ہیں۔ تلنگانہ میں مرض کی رفتار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زیر علاج ایک بھی مریض آکسیجن یا پھر وینٹیلٹر پر نہیں ہے اور تمام تیزی سے صحت یاب ہورہے ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ اگر یہی موقف برقرار رہا تو 24 اپریل تک موجودہ تمام مریض صحت مند ہوکر ڈسچارج ہوجائیں گے اور تلنگانہ کورونا سے پاک ریاست بن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پازیٹو کیسیس والے علاقوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے سختی سے عمل کیا جارہا ہے۔ ریاست بھر میں 243 علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 123 اور دیگر اضلاع میں 120 مقامات کو نوانٹری زون میں تبدیل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے زون میں کسی کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام ضروری سامان اور اجناس ہر گھر تک سربراہ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا اور راجستھان میں آج بھی کورونا ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تلنگانہ سے مہاراشٹرا کی طویل سرحد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 اپریل تک لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ سماج اوراپنے بچوں کی بھلائی میں ہے لہذا تمام مذاہب کے ماننے والوں کو حکومت سے تعاون کرنا چاہیئے۔ جس طرح جاریہ لاک ڈاؤن میں مذہبی اجتماعات پر پابندی رہی 30 اپریل تک پابندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ انٹر میڈیٹ امتحانات ختم ہوگئے لیکن ایس ایس سی کے بعض پرچہ جات باقی ہیں جن کے بارے میں جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ویڈیو کانفرنس میں تمام ریاستوں نے لاک ڈاؤن میں توسیع کی تائید کی۔ بعض نے محدود پابندیوں اور بعض نے خصوصی ٹرینوں سے عوام کی منتقلی کی تجویز پیش کی لیکن یہ تجاویز قبول نہیں کی گئیں۔ تلنگانہ کابینہ کے فیصلہ کی تفصیلات وزیر اعظم کو روانہ کی جارہی ہیں اور ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن میں توسیع کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام صبر سے کام لیں تو 30 اپریل تک ملک بھر میں کورونا کی صورتحال قابو میں آسکتی ہے۔ پریس کانفرنس میں ریاستی وزراء ای راجندر، سبیتا اندرا ریڈی، سرینواس یادو، نرنجن ریڈی کے علاوہ چیف سکریٹری سومیش کمار اور ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی موجود تھے۔