تلنگانہ میں آئندہ دو ماہ تک ورک فرم ہوم کلچر

   

اومی کرون وائرس کے پیش نظر آئی ٹی کمپنیوں کا فیصلہ
حیدرآباد۔3۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں موجود انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں میں دوبارہ ورک فرم ہوم کلچر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کی دہشت کے ساتھ ہی جن آئی ٹی کمپنیوں نے دفتر سے کام کاج بحال کرنے کے اقدامات کئے تھے ان کمپنیوں کی جانب سے فوری طور پر ورک فرم ہوم کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ دو ماہ کیلئے ورک فرم ہوم کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ شہر کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیوںکی جانب سے گذشتہ ماہ ہی حکومت کی جانب سے مسلسل اصرار کے بعد دفتری سرگرمیوں کو بحال کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے لیکن اومی کرون کی دہشت کے ساتھ ہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذمہ داروں کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد تمام ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ دو ماہ کے لئے گھر سے کام کاج کو جاری رکھا جائے گا اور دو ماہ بعد صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دفتری سرگرمیوں کی بحالی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے ۔ 2020مارچ میں کورونا وائر س کی وباء کے ساتھ ہی بند کی گئی انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کی دوبارہ مکمل عملہ کے ساتھ کشادگی کے سلسلہ میں ریاستی حکومت اور محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی کی جانب سے مسلسل کوشش اور اقدامات کے بعد نومبر سے بیشتر تمام کمپنیو ںمیں دفتری سرگرمیوں کو بحال کرتے ہوئے ورک فرم ہوم کے نظریہ کو ختم کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے لیکن اب نومبر کے اواخر میں کورونا وائرس کی نئی قسم اور اندرون ایک ہفتہ کئی مریضوں کی نشاندہی اور مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کے بعد آئی ٹی کمپنیوں کے ذمہ داروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور انہوں سے دفتری سرگرمیوں کی بحالی کے فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرلی اور دوبارہ گھر سے کام کاج کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست تلنگانہ کے علاوہ کرناٹک ‘ مہاراشٹرا‘ نوئیڈا اور گڑگاؤں میں خدمات انجام دینے والی انفارمیشن کمپنیوں میں بھی جہاں دفتری سرگرمیوں کو بحال کرتے ہوئے حاضری لازمی کی گئی تھی اس فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے اور آئی ٹی شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو گھروں سے کام کاج جاری رکھنے کا اختیار دے دیا گیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ہندستان میں خدما ت انجام دینے والی بیشتر بین الاقوامی کمپنیوں کے ذمہ داروں نے سرکردہ عہدیداروں سے تبادلہ خیال کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ ملازمین کو گھر سے کام کاج کی اجازت فراہم کی جائے۔م