دیگر ریاستوں کے علاوہ داخلی پیداوار میں اضافہ، سرکاری دواخانوں میں آکسیجن سے مربوط بستروں کی تعداد میں اضافہ
حیدرآباد: ملک بھر میں کورونا کے مریضوں کیلئے سرکاری و خانگی دواخانوں میں آکسیجن کی قلت کا سامنا ہے لیکن تلنگانہ حکومت نے جنگی خطوط پر اقدامات کرتے ہوئے آکسیجن کی قلت پر نہ صرف قابو پالیا بلکہ وافر مقدار میں اسٹاک کیا گیا ہے ۔ گزشتہ ایک سال کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کورونا کے علاج کے سلسلہ میں کئے گئے اقدامات کے تحت میڈیکل آکسیجن کی دستیابی کو اولین ترجیح دی گئی ۔ ریاست کے علاوہ دیگر ریاستوں اور مرکز سے آکسیجن کے حصول کے علاوہ داخلی سطح پر پیداوار کے ذریعہ قلت پر قابو پایا گیا ہے ۔ حکومت نے کیسیس کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ای ایس آئی ہاسپٹل ناچارم کے 550 بستر اور نمس کے 200 بستروں کو کورونا علاج کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں آکسیجن کی طلب 260 تا 270 میٹرک ٹن کے درمیان ہے ۔ مرکز کی جانب سے ریاست کو مختلف صنعتوں کے ذریعہ 370 میٹرک ٹن آکسیجن الاٹ کی گئی ۔ تلنگانہ میں داخلی طور پر پیداوار کی صلاحیت میں 120 میٹرک ٹن تک اضافہ کیا ہے۔ بیلاری اسٹیل پلانٹ سے 70 میٹرک ٹن آکسیجن اضافی طور پر حاصل کی جارہی ہے ۔ اس طرح ریاست میں 470 میٹرک ٹن آکسیجن دستیاب ہے جو کورونا کی دوسری وباء سے نمٹنے کیلئے کافی ہوگی۔ حکومت نے گاندھی ہاسپٹل میں آکسیجن کی تیاری کیلئے جو انتظامات کئے ہیں، اس کے تحت روزانہ 29 لاکھ لیٹر آکسیجن تیار کی جار ہی ہے جبکہ گچی باؤلی کے ٹمس میں 14 لاکھ لیڈر تیاری کی گنجائش ہے۔ آکسیجن کی قلت کی صورت میں اہم دواخانے اپنے طور پر آکسیجن تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست کے سرکاری دواخانوں میں 3010 اضافی بستروں کو آکسیجن سے مربوط کرنے کی ہدایت دی ہے۔ گاندھی ہاسپٹل کے علاوہ تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس، ایم جی ایم ورنگل ، نمس ، سوریا پیٹ ، نلگنڈہ ، محبوب نگر ، سدی پیٹ ، منچریال ، ملک پیٹ ، گولکنڈہ ، ونستھلی پورم ، سروجنی دیوی ہاسپٹل ، امیر پیٹ ، ناچارم ، نظام آباد اور چیسٹ ہاسپٹل میں آکسیجن سے مربوط اضافی بستروں کا انتظام کیا جارہا ہے ۔