تلنگانہ میں اسکولوں کی کشادگی سے والدین غیر مطمئن

   

۔93 فیصد سرپرست بچوں کو اسکول بھیجنے کے حق میں نہیں، سروے میں انکشاف

حیدرآباد۔ حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی کشادگی کے فیصلہ سے والدین اور سرپرست مطمئن نہیں ہیں اور آن لائن سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 93 فیصد اولیائے طلبہ نے بچوں کو اسکول روانہ کرنے سے احتیاط کرنے کا فیصلہ کیا ہے او رکہا جا رہاہے کہ 4500 اولیائے طلبہ کے اس سروے میں 93 فیصد کی جانب سے اسکولو ںمیں عدم صفائی کے خدشات اور طلبہ کی صحت متاثر ہونے کے خدشات کے اظہار سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کا اولیائے طلبہ پر منفی اثر دیکھا جارہاہے اور جو رہنمایانہ خطوط حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے ہیں ان کے متعلق اولیائے طلبہ کا کہنا ہے کہ ان رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے متعلق وہ مطمئن نہیں ہیں کیونکہ بیشتر 90 فیصد اسکولوں میں صفائی عملہ کی کمی ہے اور کئی اسکولو ںمیں صفائی عملہ کی محدود وقت کیلئے تعیناتی ہوتی ہے اسی لئے انہیں کئی خدشات ہیں ۔ طلبہ کی صحت کے معاملہ میں فکرمند طلبہ نے حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط میں حاضری کے لزوم کو برخواست کئے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت دیگر احکامات پر بھی سختی سے عمل آوری میں کامیاب ہوتی ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے حق میں ہیں لیکن حکومت کی جانب سے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں ان پر اسکول انتظامیہ کی جانب سے عمل آوری نہ کئے جانے کے سنگین نتائج برآمد ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے وہ اپنے بچوں کو فوری اسکول روانہ کرنے کے سلسلہ میں کسی بھی طرح کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ حیدرآباد اسکول پیرنٹس اسوسیشن کی جانب سے کروائے گئے سروے میں اس بات کے انکشاف کے بعد اسکول انتظامیہ میں بھی بے چینی پیدا ہونے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کے احکام کے باوجود اگر اولیائے طلبہ اپنے بچوں کو روانہ کرنے سے گریز کرتے ہیں تو اسکولوں کی کشادگی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔