محکمہ صحت کشادگی کے حق میں، چیف سکریٹری سومیش کمار کا اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔/19 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا کی صورتحال کے قابو میں آنے کے بعد حکومت اسکول اور کالجس کی کشادگی کے بارے میں محکمہ صحت کی رپورٹ پر کارروائی کی تیاری کررہی ہے۔ محکمہ صحت نے اسکولوں کی یکم ستمبر سے کشادگی کی سفارش کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کردی تاہم چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سیاسی مصروفیات کے نتیجہ میں اجلاس طلب کرنے سے قاصر رہے۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت جی سرینواس راؤ نے واضح کردیا کہ اسکول اور کالجس کی کشادگی کا وقت آچکا ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ کورونا ویکسین لینے والے ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف کو اسکول و کالجس میں خدمات انجام دینے اجازت دی جانی چاہیئے۔ طلبہ کیلئے کوویڈ قواعد کے تحت کلاسیس میں نشستوں کا انتظام کیا جائے اور ویکسین لے چکے ٹیچرس کے ذریعہ تعلیم دی جائے۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے محکمہ صحت عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جلد چیف منسٹر اسکولوں کی کشادگی پر قطعی فیصلہ کرینگے۔ آندھرا پردیش حکومت نے ٹیچرس اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی ٹیکہ اندازی کی تکمیل کے بعد بھی 16 اگسٹ سے اسکولوں اور کالجس کی کشادگی عمل میں لائی ہے حالانکہ وہاں کورونا کی صورتحال ابھی مکمل قابو میں نہیں ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں کورونا کی تیسری لہر کے امکانات موہوم ہیں اور اگر تیسری لہر آتی ہے تب بھی وہ مہلک ثابت نہیں ہوگی لہذا طلبہ کو آن لائن کلاسیس کی مشقت سے بچانے کیلئے آف لائن کلاسیس کا آغاز ضروری ہے۔ آن لائن کلاسیس میں معیاری تعلیم کے امکانات اس لئے بھی موہوم ہیں کہ طلبہ پوری یکسوئی و دلجوئی کے ساتھ تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔ دیہی علاقوں سے زیادہ تر شکایت ہے کہ غریب والدین بچوں کیلئے آئی فون اور دیگر آلات کی خریدی کی استطاعت نہیں رکھتے لہذا اسکولس اور کالجس کی کشادگی سے دوبارہ تعلیمی ماحول کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ کے اسکولوں میں ٹیچرس کیلئے ٹیکہ اندازی کی تجویز ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی تعداد تقریباً 5 لاکھ ہے۔ جاریہ سال یہ تیسرا موقع ہے جب محکمہ صحت نے باقاعدہ کلاسیس کے آغاز کی سفارش کی۔ گزشتہ سال 24 مارچ کو تعلیمی ادارے بند کئے گئے تھے جس کے بعد مختصر عرصہ کیلئے کشادگی عمل میں آئی لیکن کیسوں میں اضافہ کے بعد دوبارہ بند کردیا گیا۔R