تلنگانہ میں اقلیتوں کی حالت کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں کے مترادف

   

اعلان کردہ نئی اسکیمات پر عمل ندارد، اقلیتوں میں شدید ناراضگی
حیدرآباد۔8۔مارچ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتوں کی حالت ’کھلونے دے کے بہلایا گیاہوں‘ کے مصداق ہے بن چکی ہے اور حکومت ریاست کے اقلیتوں کو محض اعلانات کے ذریعہ کان خوش کرنے میں مصروف ہے۔علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے ہی ریاست کی اقلیتوں کو نظرانداز کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو کہ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے باوجود بھی جاری ہے۔تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد کہا جارہا تھا کہ ریاست میں اقلیتوں کو ’رمضان کے تحفہ‘ کے علاوہ ان کی تعلیمی اور معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جائیں گے اور اقلیتی بجٹ میں اضافہ کرنے کے علاوہ ان کے لئے سب پلان کی منظوری کے ذریعہ غیر مستعملہ بجٹ کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے دو سال گذرنے کے بعد بھی حکومت کی جانب سے نئی اسکیمات کا اعلان تو دور معلنہ اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں تلنگانہ کے اقلیتوں میں شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ موجودہ حکومت بھی پیشرو حکومت کی طرح ماہ رمضان المبارک کے دوران ’تحفہ رمضان ‘ کے نام پر ریاست کے اقلیتوں کو گمراہ کررہی ہے۔پیشرو حکومت کی جانب سے ریاست میں اقلیتوں کی صنعتی ترقی کے لئے T-Pride کے نام سے اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے تلنگانہ کے اقلیتی نوجوانوں کو دلتوں اور خواتین کے طرز پر صنعتی ترقی فراہم کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا اور پیشرو حکومت نے اس سلسلہ میں متعلقہ محکمہ جات سے تال میل کے ذریعہ اسکیم کو قابل عمل بنانے کے اقدامات کئے تھے لیکن اس اسکیم کو جاری رکھا گیا ہے یا بند کردیا گیا ہے کوئی جواب دینے کے لئے آمادہ نہیں ہے بلکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداراس اسکیم کے متعلق دریافت کرنے پر بغلیں جھانک رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہیں اس طرح کی کسی بھی اسکیم کے متعلق کوئی علم نہیں ہے۔اقلیتی نوجوان جو کہ صنعتی شعبہ میں اپنی قسمت آزمانے کا ارادہ رکھتے ہیں ان نوجوانوں کے لئے شروع کی گئی اس اسکیم کے ذریعہ اقلیتی نوجوانوں کو مالی امداد کے علاوہ اراضیات کی تخصیص کے ساتھ ساتھ صنعتی اداروں کے قیام کے لئے مؤثر رہنمائی کے منصوبہ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس اعلان پر عمل آوری ہوئی یا نہیں اس بات سے کوئی واقف نہیں ہے لیکن اقلیتی نوجوانوں کے نام پر شروع کردہ اس اسکیم کی تیاری پر بھاری رقومات خرچ کی جاچکی ہیں۔3