اقلیتی اسکولس میں اقرباء پروری اور بدعنوانیاں معیاری تعلیم کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ
حیدرآباد۔15۔جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ہر محاذ پر اقلیتوں اور دلتوں کے درمیان فرق کو واضح کر رہی ہے اور اقلیتوں کو محروم طبقات میں شامل کرنے کی منظم سازش کی جا رہی ہے! حکومت سے تمام طبقات کیلئے اقامتی اسکولوں کا قیام عمل میں لایا گیا اور ملک بھر میں اقلیتی اقامتی اسکولوں کے قیام اور 204 اسکولوں اور جونیئر کالجس کی دہائی دی جاتی ہے لیکن اگر ان کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو ان کے نتائج ایسے نہیں ہیں جیسے سوشل ویلفیر اقامتی اسکولوں کے طلبہ کے نتائج ہیں۔ سوشل ویلفیر کے تحت اقامتی اسکولوں میں گذشتہ 8 برسوں میں 703 طلبہ کو ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل ہوا ہے جبکہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کے 7 طلبہ کو بھی گذشتہ 7 برسوں میں ایم بی بی ایس کی نشست حاصل نہیں ہوپائی جبکہ دونوں اقامتی اسکولوں کے طلبہ پر حکومت سے یکساں رقم خرچ کی جا رہی ہے ۔ مساوی رقم کے باوجود اقلیتی اقامتی اسکولوں کے نتائج میں بہتری نہ لانے تحقیق کے دوران انکشاف ہوا کہ تلنگانہ سوشل ویلفیر ریسڈینشل انسٹیٹیوٹ ایجوکیشنل سوسائیٹی میں تعلیم کے معیار کو بلند رکھنے ایسے افراد کی خدمات حاصل کی جار ہی ہیں جو تعلیمی میدان میں مہارت رکھتے ہیں جبکہ تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے ماہرین تعلیم کے بجائے اقرباء پروری کو فروغ دیا جا رہاہے اور نااہل افراد کو جن کی تعلیم کا ہی کوئی ریکارڈ نہیں ہے تعلیمی پالیسی تیار کرنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں اقلیتی اقامتی اسکولوں میں سوشل ویلفیر کے مساوی اخراجات کے باوجود کوئی نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں۔ حکومت بالخصوص وزیر بہبود مسٹر کوپلہ ایشور کو اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ان کی وزارت کے تحت اقلیتی اقامتی اسکولوں و سوشل ویلفیر کے اسکولوں کے نتائج میں اس قدر کیوں فرق ہے! بتایاجاتا ہے کہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں دھاندلیوں کی شکایات کے باوجود کسی قسم کی کاروائی نہ کرنے کے نتیجہ میں بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں میں ملوث افراد کی حوصلہ افزائی ہونے لگی ہے اور وہ طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ سوشل ویلفیر کے تحت اسکولوں میں NEET-2023کے دوران 203طلبہ کو ایم بی بی ایس میں نشست کی توثیق کے بعد اقلیتی اقامتی اسکولوں کے طلبا عہدیداروں سے ان کے نتائج اور ان کے اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کو ملنے والی ایم بی بی ایس کی نشستوں کے متعلق استفسار پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے بلکہ وہ 2طلبہ کو ایم بی بی ایس میں داخلہ ملنے کے امکانات ظاہر کر رہے ہیں جبکہ NEET‘ IIT‘JEE ‘NDA اور EAMCETکی تیاری کے نام پر کروڑہا روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود سے اسٹڈی سرکل کے ذریعہ جس طرح کروڑہا روپئے کے خرچ کے باوجود کوئی نتائج برآمد نہیں ہوتے اسی طرح ان مسابقتی امتحانات میں شرکت کی تربیت کے باوجود کیوں اقلیتی طلبہ کے نتائج میں بہتری نہیں لائی جا رہی ہے اس کا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ تلنگانہ میں قبائیلی اقامتی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبا کے بھی نتائج میں کافی بہتری آئی ہے اور قبائیلی طلبہ بھی ایم بی بی ایس میں نشست حاصل کرنے میں کامیابی ہو رہے ہیں لیکن اقلیتی اقامتی اسکولوں کے طلبہ ہیں جنہیں تربیت کے باوجود بڑی تعداد میں داخلہ حاصل نہیں ہورہا ہے۔م