تلنگانہ میں امن و ضبط کی صورتحال ابتر اور تغلق حکمرانی

   

ناگم جناردھن ریڈی کا الزام، پولیس پر سے عوام کا اعتماد ختم
حیدرآباد ۔2 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر ناگم جناردھن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے اور کے سی آر کی حکمرانی تغلق دور حکومت سے بدتر ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جناردھن ریڈی نے کہا کہ پولیس پر عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے ۔ فرینڈلی پولیس کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے اور صرف ٹی آر ایس قائدین کیلئے پولیس کا رویہ فرینڈلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیڈی وٹرنری ڈاکٹر پرینکا ریڈی کے قتل کیلئے پولیس کا تساہل ذمہ دار ہے۔ پولیس نے اگر بروقت کارروائی کی ہوتی تو لیڈی ڈاکٹر کو بچایا جاسکتا تھا ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ رشتہ داروں کی جانب سے شکایت درج کئے جانے کے باوجود پولیس نے کئی گھنٹوں تک کارروائی نہیں کی ۔ ناگم جناردھن ریڈی نے آر ٹی سی ملازمین کیلئے چیف منسٹر کے انعامات کی بوچھار کو سیاسی مقصد براری کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ کے سی آر نے آر ٹی کے کیلئے 7 کروڑ روپئے کی ادائیگی سے انکار کیا تھا لیکن آج ہزاروں کروڑ کے اعلانا کر رہے ہیں۔ اگر یہی اعلان پہلے کیا جاتا تو 30 ملازمین کی جانیں بچ جاتی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ بلدی انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کیلئے کے سی آر نے آر ٹی سی ملازمین کیلئے اعلانات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں اور لاء اینڈ آرڈر کی صور تحال ابتر ہے۔ ناگم جناردھن ریڈی نے وزیر داخلہ کی جانب سے دیئے گئے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے بیان سے پولیس کی کوتاہیوں کی پردہ پوشی کی جاہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے آج تک اس واقعہ پر ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ ان کی خاموشی عوام میں کئی شبہات پیدا کر رہی ہے ۔ انہوں نے آر ٹی سی ملازمین سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر کی باتوں میں نہ آئیں اور مزید دھوکہ نہ کھائیں۔