تلنگانہ میں امید پورٹل پر درج کردہ جائیدادوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت

   

دستاویزات کی عدم موجودگی کے نام گزٹ یا منتخب کالعدم، امجداللہ خان کا ردعمل
حیدرآباد۔8۔مارچ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں UMEED پورٹل پر درج کی گئی جائیدادوں کا اندراج کروانے والوں کو از سر نو جائزہ لیتے ہوئے ان کی موقوفہ جائیداد کے موقف کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ جن موقوفہ جائیدادوں کو اندراج کے بعد Approve قرار دیا گیا تھا اب ان میں کئی جائیدادوں کو منظورہ وقف جائیدادوں کی فہرست سے خارج کرتے ہوئے ان میں دستاویزات کی کمی یا دیگر وجوہات ظاہر کرتے ہوئے ان جائیدادوں کے اندراج کو مسترد کیا جانے لگا ہے۔ تلنگانہ میں UMEED پورٹل پر ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداروں کی جانب سے اختیار کردہ بے اعتنائی کے نتیجہ میں ہزاروں جائیدادوں کے اندراج کے باوجود آخری تاریخ گذرنے تک بھی ان جائیدادوں کو منظوری دیتے ہوئے توثیق کرنے سے گریز کیا جاتا رہا اور اب جبکہ تلنگانہ وقف ٹریبونل کے احکام کے بعد تلنگانہ وقف بورڈ کو وقت حاصل ہوا ہے تو پورٹل پر درج کی گئی جائیداد کی تفصیلات کی توثیق کے بجائے ان کے استرداد پر توجہ دی جا رہی ہے اور یہ باور کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈمیں مذکورہ جائیدادوں سے متعلق دستاویزات موجود نہیں ہیں یا مقدمہ کے دوران عدالت نے مذکورہ جائیداد کے گزٹ یا منتخب کو کالعدم قرار دیا ہے اسی لئے اس جائیداد کی وقف جائیداد کی حیثیت سے توثیق نہیں کی جاسکتی۔ جناب محمد امجد اللہ خان خالد ترجمان مجلس بچاؤ تحریک نے اس سلسلہ میں تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کے طریقہ کار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت وقف بورڈ کو فوری طورپر کارکرد بنانے کے اقدامات کرے تاکہ تلنگانہ میں موجود موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہو ںنے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں موجود وقف جائیدادوں کے تحفظ کے بجائے قابضین سے ساز باز کرتے ہوئے ان جائیدادوں کوتباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور UMEED پورٹل پر موقوفہ جائیداد کے اندراجات سے روکتے ہوئے ان جائیدادوں کو تباہ کیا جانے لگا ہے۔صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں بورڈ کے عہدیداروں کے ہمراہ جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے انہیں جائیدادوں کے اندراج کی تفصیلات اور ان کی توثیق کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے متعلق آگہی حاصل کر رہے ہیں ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق موقوفہ جائیدادوں کے پورٹل پر اندراج اور ان کی توثیق کے بعد دوبارہ ان کے موقف کور تبدیل کرتے ہوئے ’منسوخ‘ قرار دیئے جانے سے متولیان ‘ انتظامی کمیٹی ‘اور نگران جائیداد میں تشویش کی لہر پائی جانے لگی ہے۔3