تلنگانہ میں اِسکل یونیورسٹی کا قیام ریونت ریڈی کا ایک اچھا اقدام

   

جنوبی کوریا میں ہنر مند ملازمین کے لیے روزگار کے کافی مواقع
تلنگانہ کے صحیفہ نگاروں سے سفیر ہند امیت کمار کی بات چیت
حیدرآباد۔/24 اکٹوبر، ( اسماعیل احمد سیؤل سے ) ۔ سفیر ہند برائے جنوبی کوریا امیت کمار کے بموجب ہندوستان کی مختلف ریاستیں جن میں تلنگانہ ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور مہاراشٹرا شامل ہیں جنوبی کوریا سے پُرکشش سرمایہ کاریوں کے لئے سرگرم طور پر کوششیں کررہی ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ان میں تمل ناڈو اور مہاراشٹرا متذکرہ کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ امیت کمار نے سیؤل میں تلنگانہ کے صحیفہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی کی اِسکل یونیورسٹی کے قیام سے متعلق مساعی کو کافی پسند کیا جارہا ہے۔ جنوبی کوریا اِسکل ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ مرکوز کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کوریا اور ووکیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کو خاص اہمیت دے رہا ہے اور 10+2 لیول پر خصوصی اسکولوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے تعلیمی اداروں سے گریجویٹ بننے والے طلباء و طالبات کو کمپنیوں کی جانب سے راست طور پر ملازمت فراہم کی جارہی ہیں، جن میں سیم سنگ بھی شامل ہیں۔ اس ملک میں تعلیم یافتہ افراد کی شرح صد فیصد ہے۔ سفیر ہند نے مزید بتایا کہ جنوبی کوریا ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ( آر اینڈ ڈی ) کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے اس خصوص میں ایل جی کی مثال پیش کی جس نے صرف آر اینڈ بی میں تقریباً20000 انجینئرس کو ملازمت فراہم کی ہے اور نوٹ کیا ہے کہ دوسری کمپنیاں اسی طرح اختراع پر خاص توجہ دے رہی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی موجودہ طور پر2000 کے لگ بھگ ہندوستانی طلباء اور محققین جنوبی کوریا میں ہیں۔ تلنگانہ کی اِسکل یونیورسٹی کے سلسلہ میں امیت کمار نے بتایا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی یہ مساعی بہت اچھا نظریہ ہے۔ جنوبی کوریا میں جہاز رانی، سیمی کنڈاکٹرس کی ان شعبوں کے طورپر نشاندہی کی ہے جہاں پر کافی تعداد میں ہنرمند ملازمین کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہم ہندوستان سے تعلق رکھنے والے 200 کے لگ بھگ ملازمین کے مائیگریشن میں پہلے ہی سہولت فراہم کرچکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جیسے ہی روزگار کے بارے میں رسمی پالیسی خاکہ تیار کرلیا جائے گا جنوبی کوریا کو ہندوستانی ملازمین کی آمد کافی بڑھ جانے کی توقع ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ جنوبی کوریا کی فی کس آمدنی 30000 امریکی ڈالر ہے اور کہا کہ ندی کے فرنٹ کو فروغ دینے جیسے پراجکٹس میں ملک کی ترقی میں اہم ترین رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میں موسیٰ ندی کے فرنٹ جیسے پراجکٹس سے ریاست کو اسی طرح ترقی ملے گی۔