تلنگانہ میں آبپاشی اور برقی پراجیکٹس میں کرپشن کے خلاف کانگریس کی جدوجہد

   

ثبوت اکٹھا کرنے 26 قائدین پر مشتمل کمیٹی، اندرون دو ماہ پراجیکٹس کے معائنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔ یکم نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں آبپاشی اور برقی پراجیکٹس میں مبینہ بے قاعدگیوں اور کرپشن کے خلاف جدوجہد کے لیے آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 26 قائدین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے جو مختلف پراجیکٹس کا معائنہ کرتے ہوئے تکمیل میں بے قاعدگیوں کی جانچ کرے گی۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ ڈاکٹر آر سی کنتیا نے بتایا کہ اے آئی سی سی آفس بیررس اور کور کمیٹی کے فیصلے کے مطابق آبپاشی اور پاور پراجیکٹس میں کرپشن کا جائزہ لینے کے لیے اندرون دو ماہ مذکورہ کمیٹی پراجیکٹس کا دورہ کرتے ہوئے ثبوت اکٹھا کرے گی۔ ٹی آر ایس حکومت کی مبینہ بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے دستاویزی ثبوت اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماہرین قانون سے مشاورت اور ٹیکنیکل ایکسپرٹس کے مشورے سے یادداشت تیار کی جائے گی تاکہ صدر جمہوریہ، ریاستی گورنر اور حکومت ہند کو پیش کی جاسکے۔ اس کے علاوہ این ڈی اے حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں اور ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ناکامی پر رپورٹ تیار ہوگی۔

مذکورہ کمیٹی ریاستی میں پارٹی کے تمام سطح پر کارکنوں اور قائدین کو متعارف رکھنے کے لیے ایک سالہ ایکشن پلان تیار کرے گی۔ کمیٹی کے صدرنشین اتم کمار ریڈی ایم پی و صدر پردیش کانگریس ہوں گے جبکہ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا کو کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان میں اے ریونت ریڈی ایم پی، پونم پربھاکر ورکنگ پریسیڈینٹ، محمد اظہر الدین ورکنگ پریسیڈنٹ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ایم پی، پونالا لکشمیا سابق صدر پردیش کانگریس، وی ہمنت رائو سابق ایم پی، ٹی جیون ریڈی ایم ایل سی، کے جانا ریڈی سابق قائد اپوزیشن، دامودر راج نرسمہا سابق ڈپٹی چیف منسٹر، شریمتی وجئے شانتی سابق ایم پی، ڈاکٹر چنا ریڈی سکریٹری اے آئی سی سی، مدھو یاشکی گوڑ سکریٹری اے آئی سی سی، سمپت کمار سکریٹری اے آئی سی سی، ومشی چندر ریڈی سکریٹری اے آئی سی سی، سابق وزیر ایم ششی دھر ریڈی، سابق وزیر پی سدرشن ریڈی، سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر، رکن اسمبلی ڈی سریدھر بابو، رکن اسمبلی جگاریڈی، سابق وزیر ڈاکٹر جے گیتا ریڈی، سابق ایم پی ڈاکٹر ملو روی، سابق ایم پی کونڈا وشویشور ریڈی، اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر سراون اور عامر جاوید شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 8 اور 16 نومبر کو ضلع اور ریاستی سطح کے احتجاجی پروگراموں کے لیے مقرر کردہ انچارجس سے تعاون کرنے ضلع کانگریس صدور کو ہدایت دی تھی۔