ہر پارٹی کی چار اضلاع پر توجہ ، قائدین کے انحراف سے بی آر ایس کو مشکلات، بی جے پی معلق اسمبلی کے حق میں
حیدرآباد ۔13۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں تشکیل حکومت کی دعویدار تینوں اہم پارٹیوں نے اکثریت کے حصول کے لئے اپنے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے اضلاع پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ بی آر ایس ، کانگریس اور بی جے پی نے علی الترتیب 4 علحدہ اضلاع میں کامیابی کیلئے اپنی طاقت جھونک دی ہے۔ تلنگانہ کے متحدہ اضلاع میں سروے کا اہتمام کرتے ہوئے تینوں پارٹیوں نے اپنے موقف کا جائزہ لیا ہے۔ ان پارٹیوں کو یقین ہے کہ اگر وہ اپنے مضبوط علاقوں پر توجہ مرکوز کریں گے تو اس کا اثر دیگر نشستوں پر بھی پڑے گا۔ برسر اقتدار بی آر ایس نے سروے رپورٹس کی بنیاد پر 4 اضلاع کی نشاندہی کی ہے جہاں پارٹی کا موقف کمزور بتایا جاتا ہے ۔ کھمم ، نلگنڈہ ، محبوب نگر اور رنگار یڈی پر چیف منسٹر کے سی آر نے خصوصی توجہ مبذول کرتے ہوئے پارٹی قائدین اور کیڈر کے حوصلوں کو بلند کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ مذکورہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے وزراء اور عوامی نمائندوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پولنگ بوتھس کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے عوام سے رابطہ قائم کریں۔ حکومت کی ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کی بڑے پیمانہ پر تشہیر کی جائے۔ کھمم ضلع جو 2018 ء میں بی آر ایس کا گڑھ مانا جاتا تھا ، وہاں بڑے پیمانہ پر بغاوت نے پارٹی کو کمزورکر دیا ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی سمجھے جانے والے پی سرینواس ریڈی ، ٹی ناگیشور راؤ اور وی ویریشم کے علاوہ جوپلی کرشنا راؤ ، ایم ایل سی کے نارائن ریڈی اور ایم ایل سی کے دامودر ریڈی کے فرزند راجیش ریڈی کی کانگریس میں شمولیت نے کھمم ، محبوبنگر اور رنگا ریڈی میں بی آر ایس کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کو اپنے باغی قائدین کو شکست دینا آسان نہیں رہے گا۔ کانگریس پارٹی نے شمالی تلنگانہ کے اضلاع پر توجہ مرکوز کی ہے۔ نظام آباد ، کریم نگر عادل آباد اور ورنگل اضلاع میں زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کانگریس نے ایکشن پلان تیار کیا ہے ۔ مذکورہ اضلاع میں نظام آباد سے کانگریس کو صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن بعد میں رکن اسمبلی نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ کریم نگر میں سریدھر بابو اور جیون ریڈی کانگریس کے مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔ پارٹی کو یقین ہے کہ کریم نگر ضلع میں 7 تا 8 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ عادل آباد ضلع میں آصف آباد سے کانگریس کو کامیابی ملی تھی لیکن رکن اسمبلی نے بی آر ایس میں انحراف کرلیا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے دونوں اضلاع کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ ورنگل میں گزشتہ چناؤ میں کانگریس کو دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی تاہم بھوپال پلی کے رکن اسمبلی نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ بی جے پی جس کے تین ارکان پارلیمنٹ نظام آباد ، عادل آباد اور کریم نگر کی نمائندگی کرتے ہیں، اس نے اسمبلی چناؤ میں ارکان پارلیمنٹ کو مقابلہ میں اتارنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ ڈی اروند ، کشن ریڈی اور بنڈی سنجے پارٹی سرگرمیوں میں متحرک ہیں جبکہ عادل آباد کے رکن پارلیمنٹ ایس باپو راؤ نے پارٹی سرگرمیوں سے دوری اختیار کرلی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی ہائی کمان تلنگانہ میں فیصلہ کن موقف حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ معلق اسمبلی کی صورت میں تشکیل حکومت کے لئے بی آر ایس سے اپنی شرائط پر معاہدہ کیا جاسکے۔ بی جے پی قیادت کو تلنگانہ میں اقتدار کا یقین نہیں ہے لیکن وہ چاہتی ہے کہ معلق اسمبلی وجود میں آئیں اور بی جے پی بادشاہ گر کے موقف میں رہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے وقفہ وقفہ سے کئی انتخابی جلسے تلنگانہ میں منعقد ہوں گے تاکہ پارٹی کے حق میں رائے عامہ ہموار کی جاسکے۔