تلنگانہ میں این آر سی پر عمل نہیں ہوگا: محمود علی

   

بلدی انتخابات کے بعد چیف منسٹر اعلان کریں گے، ٹی آر ایس کو کامیاب بنانے رائے دہندوں سے اپیل
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری (سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے اس بات کو دہرایا کہ تلنگانہ ریاست میں این آر سی پر عمل نہیں کیا جائے گا ۔ تاہم اس بات کا سرکاری طور پر اعلان بلدی انتخابات کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کریں گے ۔ بلدی انتخابات کے سلسلہ میں اپیل جاری کرتے ہوئے محمود علی نے کہا کہ ٹی آر ایس حقیقی سیکولر پارٹی ہے اور اس نے کئی مواقع پر اپنے سیکولرازم کا ثبوت دیا ہے ۔ کانگریس قائدین کو الیکشن کے وقت سیکولرازم کی یاد آتی ہے۔ این آر سی اور شہریت قانون کے بارے میں کانگریس قائدین اتم کما ر ریڈ ی اور محمد علی شبیر کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے محمود علی نے کہا کہ شہریت قانون کی آڑ میں کانگریس اور تلگو دیشم کو ٹی آر ایس کے خلاف تنقید کا کوئی حق نہیں ۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس نے شہریت قانون کی مخالفت کی تھی۔ ٹی آر ایس آج بھی موقف پر قائم ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ عوام کو پہلے ہی تیقن دیا گیا ہے کہ ریاست میں این آر سی پر عمل نہیں کیا جائے گا ۔ کے ٹی راما راؤ نے بھی یہ اعلان کیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے علمائے کرام کے ساتھ ملاقات میں شہریت قانون اور این آر سی کو تلنگانہ میں نافذ نہ کرنے کا تیقن دیا ۔ محمود علی نے کہا کہ بابری مسجد کانگریس دور حکومت میں شہید کی گئی ۔ کانگریس اور تلگودیشم نے اپنے دور حکومت میں مسلمانوں کو معمولی عہدوں پر فائز کیا تھا جبکہ کے سی آر نے مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر اور ریونیو منسٹر بنایا ۔ سرکاری اداروں کے صدور نشین کی حیثیت سے مسلم قائدین کا تقرر کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 4 فیصد مسلم تحفظات کے سلسلہ میں سنجیدگی سے کام نہیں کیا اور نہ ہی مرکز سے منظوری حاصل کی ۔ ٹی آر ایس نے مسلمانوں کی تعلیمی تر قی کے لئے 204 اقامتی اسکولس اور 12 جونیئر کالجس قائم کئے ۔ جامعہ نظامیہ میں 14 کروڑ کے خرچ سے آڈیٹوریم تعمیر کیا گیا ۔ مکہ مسجد کی تزئین نو کیلئے 8 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ۔ 40 کروڑ سے انیس الغرباء کامپلکس تعمیر کیا جارہا ہے ۔ درگاہ حضرت جہانگیر پیراں کی ترقی کیلئے 40 کروڑ رپوئے اورف 50 ایکر اراضی منظور کی گئی ۔ وزیر داخلہ نے اوورسیز اسکالرشپ اسکیم ، مسلم امیدواروں کو سیول سرویسز کونچ، شادی مبارک ، ائمہ اور مؤذنین کے لئے ماہانہ اعزازیہ اور آسرا پنشن جیسے اسکیمات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں اسلامک سنٹر کی تعمیر کیلئے 10 ایکر اراضی الاٹ کی گئی ہے۔ محمود علی نے کہا کہ رمضان ، بونال اور کرسمس کے لئے 15 کروڑ کی اجرائی کے سی آر کے سیکولرازم کا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ ضرور پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو کے سی آر اور ٹی آر ایس پارٹی پر مکمل بھروسہ ہے۔ محمود علی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔