جاریہ ماہ کئی کارپوریشن کے عہدے خالی، اقلیتی قائدین کو بہتر نمائندگی کی امید
حیدرآباد۔ 20 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں سرکاری عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں برسر اقتدار ٹی آر ایس میں زبردست سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے بعد نامزد عہدوں پر تقررات کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ریاست میں انتخابات کا عمل مکمل ہوگیا۔ بلدی انتخابات کے بعد کوآپریٹیو اداروں کے انتخابات بھی مکمل ہوچکے ہیں۔ لہٰذا چیف منسٹر پارٹی کے لیے بہتر خدمت انجام دینے والے قائدین اور کارکنوں کو بطور انعام کارپوریشنوں اور دیگر اداروں میں نامزد کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ریاستی وزراء سے متعلقہ اضلاع میں سرگرم اور مستحق قائدین کی فہرست طلب کی گئی ہے۔ گزشتہ چھ برسوں کے دوران کے سی آر نے بہت کم کارپوریشنوں اور اداروں پر تقررات کئے جس کے نتیجہ میں کارکنوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے فوری بعد تقررات کا تیقن دیا گیا لیکن لوک سبھا انتخابات کا بہانہ بناکر تقررات کا عمل ٹال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پنچایتوں، منڈل اور ضلع پریشدوں کے انتخابات ہوئے لیکن نامزد عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ چیف منسٹر نے بلدی انتخابات اور پھر کوآپریٹیو اداروں کے انتخابات کے ذریعہ ریاست میں انتخابات کے مرحلہ کو مکمل کرلیا۔ اب ان کی توجہ سرکاری عہدوں پر تقررات پر مرکوز ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اہم ادروں کے صدور نشین کے عہدوں پر ارکان اسمبلی کو نامزد کیا جاسکتا ہے کیوں کہ کئی ارکان ایسے ہیں جنہوں نے کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی لیکن انہیں تاحال کوئی اہم عہدہ نہیں دیا گیا۔ ارکان اسمبلی میں پھیلی بے چینی اور ناراضگی کو دور کرنے کے لیے اہم کارپوریشنوں کے صدور نشین اور ڈائرکٹرس کے عہدوں پر تقررات کی تیاریاں ہیں۔ جاریہ ماہ کے اواخر میں تقریباً 10 کارپوریشنوں کے صدورنشین کے میعاد مکمل ہوجائے گی۔ ان میں پانچ کا تعلق مسلم اقلیت سے ہے۔ چیف منسٹر نے یکم مارچ 2017ء کو 10 کارپوریشنوں کے صدورنشین کے ناموں کا اعلان کیا تھا جن میں پانچ مسلمان تھے۔ ان کی 3 سالہ میعاد جاریہ ماہ کے اواخر میں ختم ہوگی۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین نے عہدوں کے لیے اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مرتبہ چیف منسٹر صدورنشین کے عہدوں کے علاوہ بورڈ آف ڈائرکٹرس کو بھی نامزد کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو سرکاری عہدے مل سکیں۔ اقلیتی قائدین کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے وزیر داخلہ محمد محمود علی سے فہرست طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 150 سے زائد سینئر قائدین کے نام چیف منسٹر کے حوالے کئے گئے اور کے سی آر قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے اداروں کا تعین کریں گے۔ اضلاع سے اقلیتی قائدین کے ناموں کی سفارشات وزراء اور ارکان اسمبلی سے حاصل کی جارہی ہیں۔ امید ہے کہ سرکاری عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں اقلیتوں کو غیر اقلیتی ادارے دیئے جاسکتے ہیں۔ جس طرح سابق میں انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن، رینویبل اینرجی ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ جیسے اداروں پر مسلم قائدین کو نامزد کیا گیا تھا۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق بجٹ سیشن کے فوری بعد تقررات کا عمل شروع ہوگا۔