جرمانوں کے قابل عمل ہونے کا جائزہ لینے کمیٹی کی تشکیل ۔ رپورٹ کا انتظار کیا جائیگا
حیدرآباد ۔ 3 ستمبر ( پی ٹی آئی) تلنگانہ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ترمیم شدہ موٹر وہیکلس ایکٹ کے تحت اس وقت تک جرمانے عائد نہیں کئے جائیں گے جب تک کہ اس ایکٹ کے تجویز کردہ جرمانوں کے قابل عمل ہونے کی اسٹڈی پوری نہ ہوجائے۔ حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے آج یہ بات کہی۔ عہدیدار نے کہا کہ اس قانون کی اسٹڈی کرنے حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے اور اس کمیٹی کی سفارشات وزیرٹرانسپورٹ اور چیف منسٹر کو منظوری کیلئے روانہ کی جائیں گی۔ عہدیدار نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ اس وقت تک تلنگانہ میں ان نئے جرمانوں پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں جولائی میں موٹر وہیکلس (ترمیمی) بل 2019 منظور کیا گیا اور یکم ؍ ستمبر سے نافذ ہوا ہے۔ نئے قانون میں ٹریفک قواعد کو سخت بنانے اور ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر زیادہ جرمانے عائد کرنے کی گنجائش ہے۔ نئے قانون کے تحت ہیلمٹس یا سیٹ بیلٹس نہ پہننے والوں کو 1,000 روپئے جرمانہ کیا جائے گا جبکہ یہ جرمانہ پہلے 100 روپئے تھا اور لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کرنے والوں کو قبل ازیں جرمانہ 500 روپئے کے بجائے 5000 روپئے جرمانہ کیا جائے گا یا انہیں تین ماہ کی جیل ہوگی۔ تاہم اس عہدیدار نے یہ اشارہ دیا کہ حکومت کو مجوزہ جرمانوں پر عمل درآمد کرنے کی جلدی نہیں ہے۔ بعض ریاستوں میں جیسے پنجاب اور مغربی بنگال میں اس قانون کے قواعد کو نافذ نہیں کیا گیا ہے اور وہ انتظار کرو اور دیکھو کے موڈ میں ہیں۔ رابطہ کرنے پر، پرنسپل سکریٹری ٹرانسپورٹ اینڈ روڈس اینڈ بلڈنگس سنیل شرما نے کہا کہ مرکز نے اس ایکٹ میں ترمیم کی ہے اور ریاستوں کو جرمانے مقرر کرنے کے اختیارات ہیں۔
اے پی کے وہپ کے قافلہ کی گاڑی الٹ گئی۔تین زخمی
حیدرآباد،3 ستمبر(یواین آئی)اے پی اسمبلی کے وہپ گنگولہ پربھاکر کی گاڑیوں کے قافلہ میں شامل ایک گاڑی حادثہ کا شکار ہوگئی۔یہ حادثہ ضلع کرنول کے الہ گڈہ ایچ پی پٹرول پمپ کے قریب آج صبح اُس وقت پیش آیا جب اس قافلہ میں شامل پولیس اسکارٹ کی گاڑی کا ٹائر پھٹ پڑا جس پر گاڑی کے ڈرائیور نے اس کا توازن کھودیااور یہ گاڑی الٹ گئی۔اس حادثہ میں تین کانسٹیبلس زخمی ہوگئے جن میں ایک کانسٹیبل کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔تمام زخمیوں کو علاج کے لئے اسپتال منتقل کردیاگیا۔
