بی جے پی اور ہندو تنظیموں کا پروپگنڈہ جاری ۔ کئی واقعات کا حوالہ
حیدرآباد26۔اگسٹ(سیاست نیوز) ملک میں 2014 انتخابات سے قبل ’ ہندو خطرہ میں ہیں‘ کے نظریہ کو فروغ دے کر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی اور اب اسی نظریہ کو تلنگانہ میں فروغ دینے کی کوشش کر کے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں ہندو خطرہ میں ہیں ۔ بی جے پی تلنگانہ میں ہندو کے خطرہ میں ہونے کا دعوی کرکے اکبر اویسی کے مقدمہ کا حوالہ دے رہی ہے جس میں اکبر اویسی کو بری کیا گیا ہے علاوہ ازیں گذشتہ دنوں منور فاروقی کے شو کیلئے حکومت کے انتظامات اور وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ کی کاوشوں کا تذکرہ کیا جا رہا اور یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ کے ٹی آر دہریت کے قائل ہیں اور انہیں خدا پر یقین نہیں ہے اسی لئے وہ ہندوؤں کے مفادات کیلئے آگے نہیں آتے۔ جوبلی ہلز عصمت ریزی میں رکن اسمبلی کے فرزند کے ملوث ہونے کا حوالہ دے کر اسے بھی مذہب سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کٹر پسند ہندو تنظیموں کے علاوہ بعض بی جے پی گوشوں کی جانب سے ٹوئیٹر پر ہیاش ٹیاگ چلاکر تحریر #KTRdisturbedHYD گشت کروائی جا رہی ہے اور ٹی آر ایس حکومت میں مخالف ہندو اقدامات کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ بی جے پی نے راجہ سنگھ کو معطل کردیا ہے لیکن راجہ سنگھ کے نظریات کو بی جے پی کے واٹس ایپ گروپس میں شئیر کرکے ان کی حمایت کی جا رہی ہے۔ ٹی آر ایس کارکنوں و قائدین کا کہناہے کہ بی جے پی فرقہ پرستی کے خلاف حکومت کی کارروائی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور بے بنیاد الزام عائد کر رہی ہے ۔ ہندو تنظیمیں جو مخالف ٹی آر ایس پروپگنڈہ میں مصروف ہیں وہ مسلم قائدین کو آزاد کرنے اور ہند و سیاستدانوں کو جیلوں میں بند کرنے کے الزامات عائد کرکے ہندو خطرہ میں ہیں کے نظریہ کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس کیلئے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے علاوہ بی جے پی کی غیر سیاسی تنظیموں کی مدد حاصل کی جا رہی ہے ۔ راجہ سنگھ کو پی ڈی ایکٹ کے تحت گرفتار کرنے کے معاملہ کو بھی ہندو تنظیموں نے مخالف ہندو فیصلہ کا رنگ دے کر یہ تاثر دینا شروع کردیا اور ہندو طبقہ سے تعلق رکھنے والوں میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔م