سربراہ تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری پر خاموش پارٹی کی نئی حکمت عملی
حیدرآباد۔یکم۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) سربراہ تلگو دیشم مسٹر این چندرابابو نائیڈو کی گرفتاری پر خاموشی اختیار کرنے والی بھارت راشٹرسمیتی’کما‘ طبقہ اور تلنگانہ میں موجود آندھرائی رائے دہندوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے انہیں اب قریب کرنے کی کوشش کرنے لگی ہے اور نہ صرف سربراہ تلگودیشم مسٹر این چندرابابونائیڈو کی گرفتاری کو قابل مذمت قرار دیا جانے لگا ہے بلکہ آنجہانی این ٹی راما راؤ بانی تلگو دیشم کی خدمات کا بھی بھارت راشٹرسمیتی قائدین تذکرہ کرتے ہوئے آندھرائی رائے دہندوں کے علاوہ ’کما‘ طبقہ کے رائے دہندوں کو قریب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت راشٹرسمیتی کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں کے سلسلہ میں آندھرائی عوام کا کہناہے کہ وہ اب اس جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں کیونکہ گرفتاری کے ساتھ ہی بی آر ایس قائدین نے جو موقف اختیار کیا تھا اس سے ان کی ذہنیت واضح ہوگئی اور حیدرآباد میں نائیڈو کی گرفتاری کے خلاف مظاہروں کی اجازت نہ دیئے جانے اور احتجاج کرنے والوں کو حراست میں لئے جانے کے واقعات کے بعد کما طبقہ اور آندھرائی رائے دہندوں میں پیدا ہونے والی بے چینی اور مخالفت کو دیکھتے ہوئے اچانک بی آر ایس قائدین کو آنجہانی این ٹی راما راؤ سے محبت اور ان کی خدمات یاد آنے لگی ہیں اور اس بات کا احساس ہورہا ہے کہ نائیڈو کی گرفتاری درست نہیں ہے ۔ کما طبقہ کے قائدین کا کہناہے کہ بی آر ایس اس طرح کے بیانات اور استدلال کے ذریعہ کما اور آندھرائی رائے دہندوں کو قریب کرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکتی بلکہ اسے بہر صورت شکست کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ شہر حیدرآباد میں کما طبقہ اور آندھرائی رائے دہندوں کے علاوہ چندرا بابو نائیڈو کی شہر حیدرآباد میں انفارمیشن ٹکنالوجی میدان میں ترقی کے لئے انفراسٹرکچر کی فراہمی سے واقفیت رکھنے والے بھی بی آر ایس کے موقف کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق بھارت راشٹرسمیتی قائدین کی جانب سے تلگودیشم اور آنجہانی این ٹی راما راؤ کی خدمات کو خراج کے ذریعہ آندھرائی اور کما طبقہ کے رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے کی کوششوں پر تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے گہری نظر رکھی جار ہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس مخالفت کو فروغ سے روکنے کے اقدامات کئے جائیں کیونکہ آندھرائی رائے دہندوں کی جانب سے متحدہ ووٹ کے استعمال کی روایت رہی ہے اور کما طبقہ کے رائے دہندے بھی اپنے سماج کے فیصلہ کے مطابق رائے دہی کرتے ہیں۔