تلنگانہ میں بی آر ایس کا وجود ختم: مہیش کمار گوڑ

   

ہر الیکشن میں بی جے پی کو بھگوان کے نام پر ووٹ نہیں ملتے، کانگریس کا روشن مستقبل ہونے کی پیش قیاسی

حیدرآباد ۔13 ۔ جنوری (سیاست نیوز) صدر پردیش تلنگانہ کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی آر ایس کی تاریخ ماضی بن چکی ہے، اب اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ بی جے پی کو کب تک مذہب کے نام پر ووٹ حاصل ہوں گے۔ آئندہ الیکشن میں صرف کانگریس پارٹی ہی کامیاب ہوگی۔ کویتا کیلئے کانگریس پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ۔ مہیش کمار گوڑ نے آج میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کا چیاپٹر کلوز ہوچکا ہے۔ بی آر ایس کی تاریخ قصہ پارینہ ہے۔ ریاست میں اس پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ بی آر ایس پارٹی کے قائدین آپس میں لڑتے ہوئے خود پارٹی کو ختم کر رہے ہیں۔ کے سی آر کی دختر کویتا نے پارٹی اور حکومت پر جو الزامات عائد کئے ہیں، پارٹی کے قائدین اس کا جواب دینے کے موقف میں نہیں ہیں۔ بی جے پی نے ہمیشہ سیاست میں مذہب کے نام کا استحصال کیا ہے۔ نفرت کی سیاست سے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اب یہ عمل آئندہ بی جے پی کیلئے سازگار نہیں ہوگا کیونکہ لوگ ہمیشہ مذہب کے نام پر ووٹ نہیں دیتے، وہ کارکردگی کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ ریونت ریڈی کی زیرقیادت کانگریس حکومت نے دو سال کے دوران عوام سے کئے گئے بیشتر وعدوں کو پورا کیا ہے جس سے ریاست کے عوام مطمئن ہیں۔ گرام پنچایت کے انتخابی نتائج اس کا ثبوت ہیں۔ عوام کی جانب سے ٹھکرائے جانے کے باوجود بی آر ایس اور بی جے پی نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے اور نہ ہی اپنا محاسبہ کیا ہے۔ دونوں جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ صرف تنقید برائے تنقید کرتے ہوئے حکومت کے تعلق سے گمراہ کن مہم چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ہم بھی ہندو ہیں لیکن ہم نے کبھی سیاست میں مذہب اور بھگوانوں کا نام نہیں لیا ہے۔ تلنگانہ حکومت جن فلاحی اسکیمات پر عمل کررہی ہے، وہ ملک کی کسی ریاست میں موجود نہیں ہے۔ عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے 90 فیصد قائدین ہندو ہیں۔ ہم بھی بھگوانوں کی پوجا کرتے ہیں لیکن کبھی مذہب کا سیاست میں استحصال نہیں کرتے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ وزراء کے قلمدانوں میں چیف منسٹر کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ وزراء پوری آزادی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی میں ’مَیں‘ لفظ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں غیر منظم طور پر اضلاع کی تنظیم جدید کی گئی ہے۔ کانگریس حکومت کی جانب سے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اضلاع کی تنظیم جدید میں جو غلطیاں ہوئی ہیں، اس کو درست کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کسی بھی ضلع کو ریاست کی فہرست سے نکال دینے کی حکومت کے پاس کوئی تجویز نہیں ہے۔ کانگریس حکومت نے کارپوریشنس اور بورڈ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کرنے کیلئے مذاکرات جاری رکھے ہیں۔ عہدے کم ہیں، مانگ زیادہ ہے۔ کانگریس حکومت پانی کے مسئلہ پر تلنگانہ سے کسی بھی ناانصافی کو برداشت نہیں کرے گی۔ کویتا کی کانگریس میں شمولیت کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کانگریس کو کویتا کی ضرورت نہیں ہے۔2