شرمیلا اور کوڈنڈا رام کی پارٹیوں کو کانگریس میں ضم کرنے کی منصوبہ بندی
حیدرآباد۔23۔جون(سیاست نیوز) تلنگانہ میں بھارت راشٹر سمیتی کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے ریاست میں بھی اپوزیشن اتحاد کو فروغ و استحکام حاصل ہونے کے امکانات پیدا ہونے لگے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی دختر وائی ایس شرمیلااپنی پارٹی وائی ایس آر ٹی پی کو کانگریس میں ضم کرنے کے متعلق غور کررہی ہیں علاوہ ازیں پروفیسر کودنڈا رام ریڈی جو کہ تحریک تلنگانہ کے دوران ’’تلنگانہ گاندھی‘‘ کے طور پر اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے تھے وہ بھی اپنی سیاسی جماعت تلنگانہ جنا سمیتی کو کانگریس میں ضم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ کرناٹک میں کانگریس کو حاصل ہونے والی کامیابی کے بعد ریاست میں پیدا شدہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل مخالف حکومت ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لئے ان سیاسی جماعتوں نے کانگریس قائدین سے مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ریاست میں اگرتلنگانہ جنا سینا اور وائی ایس آر ٹی پی کانگریس میں انضمام کو یقینی بناتے ہیں تو ایسی صورت میں کانگریس ریاست میں سب سے بڑی طاقت بن کر ابھر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک مسٹر ڈی کے شیو کمار جو کہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے خاندان سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں وہ وائی ایس شرمیلا سے مسلسل رابطہ میں ہیں اور انہیں اس با ت کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی وائی ایس آر ٹی پی کے کانگریس میں انضمام کے لئے تیار ہوجائیں تاکہ متحدہ طور پر بھارت راشٹر سمیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار کو یقینی بنایا جائے۔ڈی کے شیو کمار کے علاوہ دیگر قائدین بھی جو وائی ایس شرمیلا اورپروفیسر کودنڈارام سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں دونوں ہی سیاسی جماعتوں کے کانگریس میں انضمام کے لئے کوشاں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ وائی ایس شرمیلا نے تلنگانہ میں کانگریس سے اتحاد کے لئے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے ان کی پارٹی کو 20ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ان کے اس مطالبہ کو کانگریس نے مسترد کرتے ہوئے انہیں پارٹی کو ضم کرنے کی صورت میں ان کے پارٹی قائدین کو امیدوار بنانے کے سلسلہ میں غور کرنے کا تیقن دیا ہے۔کانگریس میں موجود ذرائع کے مطابق ڈی کے شیو کمار نے وائی ایس شرمیلا کوان کی پارٹی کے 5 قائدین کو رکن اسمبلی اور پارٹی کو تلنگانہ میں اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ کی پیش کش کی ہے لیکن اس کے لئے پارٹی کے انضمام کی شرط رکھی گئی ہے۔ اسی طرح پروفیسر کودنڈا رام ریڈی کو بھی تلنگانہ جنا سینا کے پارٹی میں انضمام پر انہیں کابینہ میں شامل کرنے کی پیش کش کی گئی ہے جس پر پروفیسر کودنڈا رام ریڈی بھی غور کر رہے ہیں۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارت راشٹر سمیتی سے بڑی تعداد میں قائدین کی کانگریس میں شمولیت کی اطلاعات نے کانگریس کو ریاست میں مستحکم موقف فراہم کیا ہے اور اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ جنا سینا اور وائی ایس آر ٹی پی کانگریس کی جانب سے کی گئی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے اپنی پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔م