تلنگانہ میں بی جے پی کا تابناک مستقبل

   

ریاستی پارٹی صدر کا عنقریب انتخاب ، سی ایچ ودیا ساگر راؤ
حیدرآباد۔21فروری(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر کی حیثیت سے نئے قائد کا جلد انتخاب کیا جائے گا۔ قومی صدربھارتیہ جنتا پارٹی مسٹر جے پی نڈا سے ملاقات کے بعد سابق گورنر مسٹر سی ایچ ودیا ساگر راؤ نے یہ بات کہی۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مستحکم کرنے اور پارٹی قیادت کو مضبوط کرتے ہوئے عوام کو پارٹی سے جوڑنے کیلئے قومی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے جلد اقدامات متوقع ہیں۔ مسٹر سی ایچ ودیا ساگر راؤ نے جے پی نڈا سے ملاقات کے بعد کہا کہ ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کا مستقبل تابناک ہے اور ان کی پارٹی تنظیمی تبدیلیوں کے ذریعہ جلد ہی پارٹی کو متحرک کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے عوام میں تفریق پیدا کرتے ہوئے انہیں گمراہ کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت کی جا رہی ہے جبکہ ریاستی حکومت کو اس معاملہ میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔ جے پی نڈا سے ملاقات کے بعدودیاساگر راؤ نے پارٹی قیادت میں تبدیلی کے اشارے دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تلنگانہ راشٹرسمیتی کا مقابلہ کرنے کیلئے اسی قوت کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا جس قوت کے ساتھ ٹی آر ایس عوام کو گمراہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مقابلہ کیلئے راؤ طبقہ سے تعلق رکھنے والے لیڈر کو ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کا ریاستی صدر بنائے جانے کے متعلق غور کیا جا رہاہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں موجود ہندوؤں میں طبقہ واریت کافی زیادہ ہے اسی لئے بھارتیہ جنتا پارٹی ان تمام امور کو نظر میں رکھتے ہوئے نئی قیادت کے انتخاب کا فیصلہ کرے گی۔مسٹر سی ایچ ودیا ساگر راؤ نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی اور کے چندر شیکھر راؤ کے اقتدار سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ ریاست میں نظام کے دوسرے دور کا آغاز ہوا ہے کیونکہ کے سی آر نظام کے طرز حکمرانی پر گامزن ہیں اور وہ عوام سے ملاقات نہ کرنے اور سیکریٹریٹ میں موجود اپنے دفتر میں نہ بیٹھنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے کیونکہ ملک بھر کی ریاستوں میں شائد ہی کوئی چیف منسٹر ہے جو کہ بغیر سیکریٹریٹ گئے کام انجام دیتا ہو اور عوام سے ملاقات کے بغیر ان کے مسائل کے حل کا دعوی کرتا ہو۔ریاستی حکومت کی کاردکردگی پر بھی مسٹر ودیاساگر راؤ نے شدید تنقید کی اور کہا کہ اس طرح کی غیر جمہوری حکومت کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔