ارکان پارلیمنٹ کو اسمبلی چناؤ میں امیدوار بنانے کا امکان، کرناٹک کی شکست کے بعد کیڈر کے حوصلے برقرار رکھنے کی کوشش
حیدرآباد۔/7 جون، ( سیاست نیوز) کرناٹک میں شکست کے بعد بی جے پی نے تلنگانہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے تاکہ کیڈر کے حوصلوں کو پست ہونے سے بچایا جائے اور مجوزہ اسمبلی انتخابات میں مضبوط امیدواروں کے ذریعہ رائے دہندوں کو راغب کرنے کی کوشش کی جائے۔ کرناٹک کے نتیجہ کے بعد نہ صرف قائدین بلکہ کیڈر بھی پست ہمت دکھائی دے رہا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تلنگانہ کے 119 اسمبلی حلقہ جات میں بی جے پی کے پاس مقامی سطح کے مضبوط امیدوار نہیں ہیں لہذا اُس نے بی آر ایس اور کانگریس سے اہم قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی ہائی کمان نے اسمبلی انتخابات میں موجودہ 4 ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ سابق ارکان پارلیمنٹ کو اسمبلی چناؤ میں امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرناٹک کے چناؤ میں شرمناک شکست کے بعد پارٹی نے سینئر قائدین کے ذریعہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے لوک سبھا انتخابات کی تیاری کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ اسمبلی نہ سہی لوک سبھا چناؤ تک پارٹی کیڈر کے حوصلے بلند رہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی انتخابات کیلئے دیہی علاقوں سے امیدواروں کی نشاندہی میں قیادت کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ اضلاع کی سطح پر جو قائدین ٹکٹ کی دعویداری پیش کررہے ہیں ان میں مقبولیت اور دولت کی کمی کے نتیجہ میں اعلیٰ قیادت مطمئن نہیں ہے۔ پارٹی کے موجودہ ارکان پارلیمنٹ کو ان کے حلقہ کے تحت آنے والے اسمبلی حلقوں کے امیدواروں کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جو امیدوار اسمبلی انتخابات میں بہتر مظاہرہ کریں گے انہیں لوک سبھا امیدوار بنانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ سکندرآباد لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرنے والے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی توقع ہے کہ عنبرپیٹ اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کریں گے جہاں گذشتہ اسمبلی انتخابات میں انہیں معمولی ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ریاستی صدر بنڈی سنجے کریم نگر اسمبلی حلقہ سے جبکہ ڈی اروند نظام آباد رورل حلقہ سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ عادل آباد کے رکن پارلیمنٹ ایس باپو راؤ بوتھ یا آصف آباد اسمبلی حلقہ جات سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے لکشمن کو انتخابات سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے اور ان کے اسمبلی حلقہ مشیرآباد سے کانگریس کے سابق وزیر مکیش گوڑ کے فرزند وکرم گوڑ امکانی امیدوار ہوسکتے ہیں۔ پارٹی کی قومی نائب صدر ڈی کے ارونا گدوال، سابق رکن پارلیمنٹ جتیندر ریڈی محبوب نگر، سابق رکن پارلیمنٹ جی ویویک دھرمپوری اسمبلی حلقہ سے امیدوار ہوسکتے ہیں۔ سابق ایم پی رمیش راتھوڑ کو خانہ پور اسمبلی حلقہ سے امیدوار بنایا جاسکتا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کانگریس اور بی آر ایس سے مضبوط مقابلہ کیلئے عوامی مقبولیت رکھنے والے قائدین کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ اسی دوران پارٹی کے سابق ارکان اسمبلی و کونسل نے اپنے طور پر اسمبلی حلقہ جات کی نشاندہی کرلی ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 50 تا 60 اسمبلی حلقہ جات میں سہ رخی مقابلہ رہے گا۔ر