تلنگانہ میں بی جے پی کی رکنیت سازی مہم سے ٹی آر ایس کی حکمت عملی تبدیل

   

Ferty9 Clinic

بی جے پی کے ہندوتوا کا مقابلہ کرنے ٹی آر ایس کا مندروں کو ترقی دینے کا منصوبہ، کے ٹی آر کی قائدین کو ہدایت

حیدرآباد۔28جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں جاری ٹی آر ایس کی رکنیت سازی مہم کے جائزہ اجلاس میں اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکنیت سازی میں پائی جانے والی شدت کا تذکرہ کیا جانے لگا ہے اور کہا جارہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جس طرح سے رکنیت سازی مہم میں شدت پیدا کررہی ہے اسے روکنا ناگزیر ہے ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کارگذار صدر مسٹر کے ٹی رامار اؤ نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرگرمیو ںکو نظر انداز نہ کریں اور نہ ہی یہ تصور کریں کہ بی جے پی سے اب کوئی مقابلہ نہیں رہا۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرگرمیوں اور رکنیت سازی کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو سیکولر کردار کی حامل سیاسی جماعت کے طور پر پیش کیا جائے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوتوا کے ساتھ تلنگانہ میں استحکام حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین جو کہ اب تک ٹی آر ایس کو ناقابل تسخیر سیاسی جماعت قرار دے رہے تھے اور یہ کہا جا رہا تھا کہ تلنگانہ میں کسی سیاسی جماعت میں اب یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ ٹی آر ایس کا مقابلہ کرے وہی قائدین اب یہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کی سرگرمیوں پر اب خاموشی تلنگانہ راشٹر سمیتی کے لئے خودکشی ثابت ہوگی کیونکہ پارٹی سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق پارٹی کے دیگر قائدین بی جے پی کی جانب سے حکومت پر کی جانے والی تنقیدوں کا جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں ۔ تلنگانہ راشٹرسمیتی سربراہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق وہی ٹی آر ایس قائد ذرائع ابلاغ سے بات چیت کا اہل ہوگا جسے پارٹی کی جانب سے اجازت فراہم کی جائے گی ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنقیدوں کا جواب نہ دینے کی حکمت عملی اب تک تلنگانہ راشٹرسمیتی کے لئے کاگر ثابت ہوتی رہی ہے لیکن اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکنیت سازی مہم اور دیگر سرگرمیوں کے علاوہ مرکزی و مملکتی وزراء کے دورۂ تلنگانہ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جارہاہے کہ اگر ٹی آر ایس اب بھی خاموشی اختیار کرتی ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں لیکن باوثوق ذرائع کا کہناہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندوتوا کا مقابلہ ٹی آر ایس کے مندروں کے ترقیاتی کاموں سے کرنے کی منصوبہ بندی تیار کی ہے تاکہ اس طرح ہندو توا سرگرمیوں میں بھی پارٹی کا نام برقرار رہے اور سیکولر قوتیں بھی تلنگانہ راشٹر سمیتی کو سیکولر سیاسی جماعت تصور کرتی رہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ کارگذار صدر مسٹر کے ٹی راما راؤ نے اپنے قائدین کو متحرک رہنے اور عوام سے رابطہ کو مستحکم کرنے کے علاوہ گروہ واریت کے خاتمہ کو یقینی بنائیں تاکہ اس کا کوئی اور طاقتیں فائدہ نہ حاصل کرسکیں۔