کانگریس کو نظر انداز کرنے صرف ٹی آر ایس کو نشانہ بنانے کا فیصلہ
حیدرآباد :۔ ریاست تلنگانہ میں بی جے پی نے اچانک اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کردی ۔ کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنانے یا کانگریس کی تنقیدوں کا جواب دینے کے بجائے حکمران ٹی آر ایس کو ٹارگیٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بی جے پی کی قومی قیادت نے تلنگانہ بی جے پی قائدین کو تلنگانہ بی جے پی امور کے انچارج ترون چوگ کے ذریعہ خصوصی پیغام روانہ کیا ۔ کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے والے قائدین نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی انتہائی کمزور ہوگئی ہے ۔ اس کو اہمیت دینا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ لہذا پوری طاقت ٹی آر ایس پر جھونک دینے کی اپیل کی ہے ۔ اگر کانگریس کو اور بھی زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو دونوں جماعتوں کے قائدین خفیہ طور پر متحد ہونے کے امکانات ہیں ۔ اب یہ وقت بی جے پی کو ٹی آر ایس کا متبادل کے طور پر پیش کرنے کا ہے ۔ اگر کانگریس کو اہمیت دی جاتی ہے تو وہ بھی متبادل کے دوڑ میں شامل رہے گی ۔ جس کا راست نقصان بی جے پی کو ہوگا ۔ ان حالت میں کانگریس کو نظر انداز کرنا ہی بی جے پی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی جے پی قیادت نے کہا کہ وہ ابھی تک اپنے منصوبے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ دوباک میں نعرہ دیا گیا تھا کہ کانگریس کو دیا جانے والا ووٹ ٹی آر ایس کو جائے گا ۔ ساتھ ہی جی ایچ ایم سی انتخابات میں بھی یہ نعرہ بی جے پی کے لیے کارآمد ثابت ہوا ۔ کانگریس پارٹی گروپ بندیوں کا شکار ہے ۔ اس کا بی جے پی کو فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی کامیابی کے بعد ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں ۔ جس کے بعد کانگریس پارٹی عوامی اعتماد سے محروم ہوگئی ہے ۔ کئی کانگریس کے قائدین بی جے پی کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔ لہذا کمزور ہوئی کانگریس کو نظر انداز کر کے ساری توجہ حکمران ٹی آر ایس کو کمزور کرنے پر دینی چاہئے ۔ ٹی آر ایس پارٹی قائدین کے درمیان جو اختلافات ہیں اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور ناراض قائدین کو بی جے پی میں شامل کرنے کے لیے خصوصی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے ۔ ریاست کے کئی اسمبلی حلقوں میں ارکان اسمبلی اور پارٹی قائدین کے خلاف نا اتفاقیاں نظریاتی اختلافات ہیں اس پر توجہ دیتے ہوئے ناراض گروپ سے رجوع ہونا چاہئے ناراض قائدین کو بی جے پی میں شامل کرنے کے لیے ان سے مشاورت کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ورنگل اور کھمم میونسپل کارپوریشن کے انتخابات پر خصوصی توجہ دینے اور ہر مسئلہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے پر زور دیا ہے ۔۔