تلنگانہ میں بی جے پی کے اثر کو روکنے ٹی آر ایس کوشاں

   

Ferty9 Clinic

رکنیت سازی مہم کو تیز کرنے کی ہدایت، پرانے شہر میں بعض قائدین پارٹی سے ناراض
حیدرآباد۔/3 جولائی،( سیاست نیوز) تلنگانہ میں حکمراں پارٹی ٹی آر ایس کو یقین ہے کہ وہ اسمبلی انتخابات میں اپنی بہتر کارکردگی کے مظاہرہ کی طرح بلدی انتخابات میں بھی شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ اس خصوص میں پارٹی نے تلنگانہ میں رکنیت سازی مہم کو تیز کردیا ہے۔ بی جے پی کے بڑھتے اثر اور آر ایس ایس کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے ٹی آر ایس نے حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت ہر ضلع ہیڈ کوارٹرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رکنیت سازی کی مہم کو تیز کرتے ہوئے پارٹی کو مستحکم کریں۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی جاریہ رکنیت سازی مہم کا بنیادی مقصد ہی ریاست میں بی جے پی کو مضبوط ہونے سے روکنا ہے۔ حیدرآباد کے پرانے شہر میں بھی ٹی آر ایس نے رکنیت سازی مہم تیز کردی ہے لیکن پرانے شہر میں ٹی آر ایس کی دوست جماعت مجلس کی موجودگی میں ٹی آر ایس کی رکنیت سازی مہم آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ ٹی آر ایس کے بعض قائدین مجلس کے ساتھ مفاہمت کو لے کر ناراضگی بھی ظاہر کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس نے ہر اسمبلی حلقہ میں 50 ہزار نئے رکن بنانے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ ٹی آر ایس کی زیادہ تر توجہ نوجوانوں کو پارٹی رکن بنانے پر ہے کیونکہ چیف منسٹر کے سی آر نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ پارٹی میں شامل کرنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں۔ ان دنوں نوجوانوں کے ذہنوں پر نریندر مودی کی بڑھتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بھی ٹی آر ایس سربراہ کو فکر لاحق ہوگئی ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کے بڑھتے اثر نے انہیں مزید مضطرب کردیا ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے دیگر ٹی آر ایس قائدین کا حوصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ٹی آر ایس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ بی جے پی تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور نہ ہی وہ اس کا متبادل بن سکتی ہے۔ لوک سبھا کے صرف 4 حلقوں میں بی جے پی کامیاب ہوئی ہے۔ یہ کامیابی ٹی آر ایس کیلئے پریشان کن ہے۔ ٹی آر ایس نے اسمبلی حلقوں میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی تاہم لوک سبھا انتخابات میں 17 نشستوں کے منجملہ 9 پر منتخب ہوئی۔ پارٹی کے اصل ایم پی اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی دختر کے کویتا کی نظام آباد سے ناکامی نے پارٹی کو مایوس کردیا ہے اس لئے پارٹی اپنی ساکھ کو مضبوط بنانے کیلئے رکنیت سازی مہم میں شدت پیدا کردی ہے۔