عوامی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ خدمات انجام دینے ٹی آر ایس قائدین کو چیف منسٹر کی ہدایت
حیدرآباد۔13اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل ہونے والے فروغ پر غیر سنجیدہ نہ رہیں بلکہ عوام کے درمیان پہنچ کر ان کے مسائل کے حل کے ساتھ ریاست تلنگانہ کے قیام کے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں تاکہ عوام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت فروغ حاصل نہ کرے۔ سربراہ تلنگانہ راشٹر سمیتی و چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر را ؤ کی جانب سے ریاست کے ضلعی قائدین و منتخبہ عوامی نمائندوں کو جاری کی جانے والی ہدایات پر اب یہ قائدین اپنے کارکنوں کو یہ ہدایات جاری کر رہے ہیں اور انہیں اس بات کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہتے ہوئے مسائل کے حل کے سلسلہ میں سنجیدہ خدمات انجام دیں تاکہ عوام میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے قربت کا رجحان ختم ہوسکے۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے دوران نوجوانوں کی بڑی تعداد نے بی جے پی کی رکنیت حاصل کی ہے جوکہ برسراقتدار جماعت کیلئے باعث فکر بنتا جا رہاہے اور بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ میں پارٹی کو تنظیمی سطح پر مستحکم بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی چوکسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین کو پارٹی سربراہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے بعد تمام قائدین نے ریاست کے تمام اضلاع میں اپنی سرگرمیو ںکو تیز کردیا ہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مقامی مسائل کی بنیاد پر موقف اختیار کرتے ہوئے عوام کو پارٹی سے قریب رکھا جائے۔ 2019 عام انتخابات کے دوران تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 4 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی کو پارٹی کی جانب سے مودی لہر قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن انتخابات کے بعدبھارتیہ جنتا پارٹی کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ ریاست میں بی جے پی کے بڑھتے قدم کو کس طرح روکا جائے۔
بتایاجاتا ہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی میں بڑی تعداد میں دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کی شمولیت پر تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ اس کے بعد پارٹی کی حکمت عملی میں مزید تبدیلی لائی جاسکے کیونکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے 2014 میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد پارٹی نے دیگر سیاسی جماعتو ںکو ختم کرنے کی جو مہم چلائی تھی اب وہی صورتحال تلنگانہ راشٹر سمیتی کے لئے پیدا ہونے لگی ہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ میں ایک طاقت بننے کی صورت میں ٹی آر ایس کو بی جے پی سے راست مقابلہ ہوگا۔ بتایاجاتا ہے کہ سکم میںبھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک بھی منتخب رکن اسمبلی نہ ہونے کے باوجود 10 ارکان اسمبلی کی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اور اپوزیشن کا موقف حاصل کرلیئے جانے کے بعد تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین میں مزید بے چینی کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے اور اس بات پر توجہ دی جا رہی ہے کہ کسی بھی طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ریاست میں کمزور قرار دیا جائے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت کے خلاف اپنا محاذ کھولتے ہوئے جدوجہد میں شدت پیدا کردی ہے جو کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کیلئے پریشانی کا سبب بنتی جا رہی ہے۔
