الیکشن کمیشن پر حکومت کے دباؤ میں کام کرنے کا الزام ، بی آر ایس ایم ایل سی ڈاکٹر شراون
حیدرآباد۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ایم ایل سی داسو جو شراون نے کانگریس حکومت پر بی سی طبقات اور خواتین کے دستوری حقوق کو منظم سازش کے تحت کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شراون نے کہا کہ حکومت نے جی او نمبر 46 جاری کرتے ہوئے بی سی ریزرویشن کا قتل کیا ہے۔ حکومت نے مردم شماری کے نام پر 200 کروڑ روپے خرچ کئے۔ اس کے بعد بی وینکٹیشورلو اور جسٹس سدرشن ریڈی جیسی فرضی کمیشنوں کے ذریعہ عوام کو دو سال تک گمراہ کیا گیا مگر اچانک جی او 46 جاری کرتے ہوئے بی سی طبقات کے دستوری تحفظات میں کٹوتی کردی گئی۔ شراون نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ریاستی الیکشن کمیشن کو بھی اپنے زیر اثر لاتے ہوئے گرام پنچایت انتخابات کا شیڈول جاری کروایا ہے جو جمہوری اقدار کے خلاف سنگین قدم ہے۔ کئی اضلاع میں بی سی تحفظات کی شرح انتہائی کم رکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر عادل آباد میں صرف 4.8 فیصد ، جنگاؤں میں 16 فیصد، کھمم میں 9.45 فیصد، منچریال میں 7.5 فیصد، ملگ میں 3.5 فیصد شامل ہے۔ چند اضلاع میں بی سی برادری کا نا کے برابر وجود بتایا گیا ہے۔ حکومت کے اس طرح کے اقدامات سماجی انصاف کے نام پر سب سے بڑی غداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی اضلاع میں خواتین کے لئے 50 فیصد سے زیادہ نشستیں مختص نہ کرتے ہوئے ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔ یوم دستور کے موقع پر گرام پنچایت کے انتخابات میں بی سی اور خواتین کے حقوق کو سلب کرنا ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے دستور کی توہین ہے۔ 2
