ریاست گیر سطح پر ٹیکہ اندازی کے لیے دو سال درکار ممکن
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں کورونا وائرس کا ٹیکہ حاصل کرنے والوں کی مجموعی فیصد صرف 2 ہے جبکہ 98 فیصد تلنگانہ عوام کو کورونا وائر س کا ٹیکہ حاصل کرنا ہے۔ محکمہ صحت تلنگانہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ریاست تلنگانہ میں تاحال صرف 2 فیصد شہریوں نے کورونا وائرس کے دونوں ٹیکہ حاصل کئے ہیں جبکہ دوسرا ٹیکہ حاصل کرنے کا انتظار کرنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے ۔ ڈاکٹر جی سرینواس نے ریاست تلنگانہ میں ٹیکہ اندازی میں حصہ لینے والوں کے اعداد و شمار کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں اب تک جملہ 8.3 لاکھ افراد کو مکمل ٹیکہ دیا جاچکا ہے یعنی وہ دونوں ٹیکہ حاصل کرچکے ہیں جبکہ پہلا ٹیکہ حاصل کرنے والوں کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو یہ 43لاکھ 71ہزار307 تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ چند ماہ کے دوران ٹیکہ اندازی مہم میں شدت پیدا کی جائے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ مجموعی اعتبار سے ریاست تلنگانہ میں اب تک 52 لاکھ ٹیکوں کا استعمال کیا جا چکا ہے اور آئندہ چند ماہ کے دوران ٹیکہ اندازی کی مہم میں شدت کے ساتھ ہی ریاست میں ٹیکوں کے حصول میںتیزی آئے گی۔ ریاست تلنگانہ میں ڈاکٹرس‘ صفائی عملہ کے علاوہ پولیس اہلکاروں اور اس کے بعد 60 سال سے زائد عمر اور پھر 45 سال سے زائد عمر والوں کی ٹیکہ اندازی کے دوران صرف 2فیصد افراد کی ٹیکہ اندازی یقینی بنائی جا سکی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں موجود تمام شہریوں کی ٹیکہ اندازی کیلئے دو سال سے زیادہ کا وقت لگے گا اور اگر حکومت کی جانب سے اسی سست رفتاری کے ساتھ ٹیکہ اندازی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس کے نتائج بہتر برآمد ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے پولیو کے طرز پر کورونا وائرس ٹیکہ اندازی کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن خود محکمہ صحت کے عہدیداروں کی جانب سے اس بات کا اعتراف کیا جا رہاہے کہ ٹیکہ اندازی مہم میں کئی طرح کے مسائل اور خامیاں پائی جانے لگی ہیں اور ان خامیوں کو دور کرنے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ پہلے مرحلہ میں کی گئی ٹیکہ اندازی میں حصہ لینے والو ںکی بڑی تعداد کی جانب سے دوسرے ٹیکہ کے حصول میں دلچسپی نہ دکھائے جا نے کے سبب تاخیر کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اب جبکہ کئی لوگ پہلا ٹیکہ لے چکے ہیں اور دوسرے ٹیکہ کا انتظار کر رہے ہیں ٹیکہ کی قلت کے سبب ان کی ٹیکہ اندازی مکمل نہیں ہوپا رہی ہے ۔