تلنگانہ میں تلگو دیشم سے انتخابی مفاہمت کے امکانات مسترد: ڈاکٹر لکشمن

   


آندھراپردیش میں پون کلیان سے مفاہمت، ٹی آر ایس اور کانگریس میں اتحاد کی پیش قیاسی
حیدرآباد ۔یکم ستمبر (سیاست نیوز) بی جے پی کے سینئر قائد اور رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے لکشمن نے تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کے امکانات کو مسترد کردیا اور کہا کہ مفاہمت کی باتیں صرف اخبارات تک محدود ہیں اور حقائق سے کوئی تعلق نہیں ۔ حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر لکشمن نے واضح کیا کہ تلنگانہ میں بی جے پی تنہا مقابلہ کرے گی جبکہ آندھراپردیش میں پون کلیان کی جن سینا سے مفاہمت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کا موقف مستحکم ہے اور اسے کسی پارٹی سے مفاہمت کی ضرورت نہیں ہے ۔ میڈیا میں امکانی مفاہمت کے بارے میں اطلاعات سے متعلق سوال پر ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ یہ باتیں صرف میڈیا تک محدود ہیں اور اگر کچھ تبدیلی ہوتی ہے تو واقف کرایا جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ آندھراپردیش میں مخالف جگن لہر سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ جنوبی ریاستوں میں کرناٹک کے بعد تلنگانہ میں بی جے پی کا اقتدار یقینی ہے ۔ کے سی آر کے دورہ بہار اور نتیش کمار سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ کے سی آر اور نتیش کمار دونوں انتہائی موقع پرست قائدین ہیں۔ کے سی آر کو اپنے گھر میں کامیاب ہونا مشکل ہے اور وہ باہر نکل کر بی جے پی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں مجلس کے علاوہ کانگریس سے کے سی آر مفاہمت کرسکتے ہیں اور بہار میں ان کے بیانات سے یہ ثابت ہورہا ہے۔ ٹی آر ایس اور کانگریس دونوں خاندانی پارٹیاں ہیں اور دونوں کی یکساں پالیسی ہے۔ لکشمن نے کہا کہ گلوان وادی میں شہید بہار کے فوجی جوانوں اور سکندرآباد کے آتشزدگی واقعہ کے متوفی بہاری مزدوروں کے خاندانوں میں امداد کی تقسیم پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن کے سی آر تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے شہید فوجیوں کو فراموش کرچکے ہیں۔ ریاست میں خودکشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں کو امداد کیوں نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکامی کے نتیجہ میں انٹرمیڈیٹ کے 26 طلبہ نے خودکشی کرلی تھی لیکن ان کے خاندانوں کو کوئی امداد نہیں دی گئی ۔ ڈاکٹر لکشمن نے منوگوڑ ضمنی چناؤ میں بی جے پی کی کامیابی کو یقینی قرار دیا اور تلنگانہ میں بی جے پی کا موقف مستحکم ہوچکا ہے۔ جہاں کہیں بھی ضمنی چناؤ ہوئے ہیں ، ٹی آر ایس کو دھکا ۔ منوگوڑ کے عوام میں بی جے پی کو کامیاب بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کو ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر تسلیم کرلیا گیا۔ ر