تلنگانہ میں تیسری کورونا لہر شروع ‘ آئندہ 30 دن اہمیت کے حامل

,

   

احتیاط نہ برتی جائے تو حالات انتہائی ابتر ہوسکتے ہیں۔ ڈائرکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر سرینواس راؤ کا انتباہ

حیدرآباد۔30ڈسمبر(سیاست نیوز) کورونا کی تیسری لہر تلنگانہ میں شروع ہوچکی ہے اورکورونا کی نئی قسم اومی کرون کا سماجی پھیلاؤ ہونے لگا ہے ۔ محکمہ صحت تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے اور گذشتہ دو لہروں کے دوران جو حالات پیدا ہوئے تھے اس سے سبق حاصل کرکے تیاریوں کو مزید بہتر انداز میں مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رات کا کرفیو یا لاک ڈاؤن کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے یا اس سے نمٹنے کا حل ثابت نہیں ہوسکتے اسی لئے احتیاط ہی واحد راستہ ہے۔ ڈائرکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر جی سرینواس راؤ نے آج پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ریاست میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون کے متاثرین کا سماجی پھیلاؤ شروع ہوچکا ہے اور تیسری لہر تلسنکرانت کے بعد عروج پر پہنچ جائے گی۔ انہو ںنے عوام سے ماسک کے استعمال کے علاوہ سماجی فاصلہ کی برقراری کے ساتھ کورونا سے محفوظ رہنے کی تمام احتیاطی تدابیر پر عمل آوری کو یقینی بنانے کی اپیل کی اور انتباہ دیا کہ اگر ان رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری نہیں کی جاتی تو حالات انتہائی ابتر ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر جی سرینواس نے کہا کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون میں کوئی علامات نہیں پائی جا رہی ہیں اسی لئے بہتر ہے کہ آئندہ 4ہفتوں کے دوران سخت احتیاط کی جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کیلئے آئندہ30یوم انتہائی اہم ہیں اور ان 30یوم میں عوام کو احتیاط کے ذریعہ ہی کورونا وائرس کی نئی قسم کو پھیلنے سے روکنا ہوگا۔ انہو ںنے کہا کہ اومی کرون ڈیلٹاسے 30 گنا تیز رفتار سے پھیل رہا ہے اسی لئے اس پر قابو پانا مشکل ہے اور سخت احتیاط کے ذریعہ ہی قابو ممکن ہے۔ڈاکٹر سرینواس راؤ نے تلنگانہ میں سال نو اور تلسنکرانت تہوار کے دوران کورونا سے حفاظت کے لئے جاری رہنمایانہ خطوط پر سختی سے عمل آوری کا مشورہ دیا۔انہوں نے امریکہ میں ایک یوم کے دوران 4لاکھ سے زیادہ کورونا مریضوں کی نشاندہی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی یومیہ ایک لاکھ سے زائد مریضوں کی نشاندہی ہونے لگی ہے۔ڈائرکٹر ہیلت نے بتایا کہ دنیا بھر کے 130ممالک میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے مریضوں کی نشاندہی ہونے لگی ہے ۔انہو ںنے بتایا کہ 90 فیصد مریضوں میں کوئی علامات نہ پائے جانے سے اومی کرون کے پھیلاؤ کو روکنا دشوار ہوتا جا رہاہے اسی لئے ہر شخص کو ماسک کے استعمال کی ترغیب دی جا رہی ہے ۔انہو ں نے توثیق کی کہ گذشتہ دو یوم کے دوران کورونا وائرس کے مریضوںکی تعداد میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ کورونا کے معاملہ میںمحکمہ صحت دواخانوںکے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ڈاکٹر سرینواس راؤ نے کہا کہ اب جو صورتحال ہے اس میں کوئی بھی کورونا سے متاثر ہوسکتا ہے اور عوارض میں مبتلاء افراد ہی کورونا وائر س کا شکار ہوں گے ایسا نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کسی بھی شخص میں معمولی علامات بھی ہوں تو اسے فوری طور پر کورونا وائرس کا معائنہ کروالینا چاہئے ۔م

سال نو تقاریب میں شرکت کیلئے دونوں ڈوز لازمی
احتیاط کے ساتھ جشن منانے ڈاکٹر سرینواس راؤ کا مشورہ
حیدرآباد۔30۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے اومی کرون کے خطرہ سے نمٹنے کیلئے سال نو کی تقاریب پر تحدیدات کا مشورہ دیا ہے لیکن ڈائرکٹر پبلک ہیلت ڈاکٹر سرینواس راؤ نے عوام کو بے خوف و خطر نئے سال کی تقاریب منانے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اومی کرون سے بچاؤ کے لئے حکومت نے نئے سال کی تقاریب میں صرف ان لوگوں کو شرکت کی اجازت دی ہے جنہوں نے کورونا ویکسین کی دونوں خوراک حاصل کرلی ہو ۔ ویکسین کے بغیر تقاریب میں شرکت کی اجازت نہیں رہے گی۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں واضح احکامات جاری کئے گگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کورونا ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا ۔ اومی کرون کیلئے علاج وہی ہے جو دوسری لہر میں کورونا کے ڈیلٹا ویرینٹ کے لئے کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں ابھی تک اومی کرون کے 62 معاملات درج ہوئے ہیں۔ سرینواس راؤ نے بتایا کہ جوکھم اور غیر جوکھم ممالک کی تفریق ختم ہوچکی ہے کیونکہ کسی بھی ملک سے آنے والوں میں اومی کرون ویرینٹ موجود ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کووڈ قواعد پر سختی سے عمل آوری کے ذریعہ نئے سال کی تقاریب میں حصہ لینے میں کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ ر