مرکزی اسکیمات کا نام تبدیل کرنے کے سی آر حکومت پر الزام، ریاست معاشی بحران کا شکار
حیدرآباد ۔یکم ستمبر (سیاست نیوز) مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رمن نے کہا کہ تلنگانہ کا ہر نومولود 1.25 لاکھ کا قرض دار ہے اور کے سی آر حکومت نے ریاست کو معاشی بحران سے دوچار کردیا ہے ۔ نرملا سیتارمن نے کاما ریڈی میں بی جے پی اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے مرکزی اسکیمات کا نام تبدیل کرتے ہوئے بجٹ کو منتقل کردیا ہے۔ مرکز نے جس اسکیم کا نام رکھا تھا، کے سی آر نے نام بدل کر کریڈٹ اپنے سر لینے کی کوشش کی ہے۔ نرملا سیتا رمن نے پراجکٹس کی تعمیر میں بدعنوانیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کی لاگت میں 1.20 لاکھ کروڑ تک اضافہ کردیا گیا ۔ حکومت ہر پراجکٹ کی مالیت میں اضافہ کر رہی ہے۔ میرا گاؤں میرا اسکول دراصل مرکزی حکومت کی اسکیم ہے لیکن اسے ریاستی اسکیم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم پر عمل آوری سے تلنگانہ حکومت انکار کر رہی ہے ، حالانکہ یہ اسکیم غریبوں کے مفت علاج کیلئے کارگر ثابت ہوگی۔ اسکیمات کے حقائق عوام تک پہنچانے سے روکنے کیلئے نام تبدیل کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ہر 100 افراد میں سے 91 کسان قرض میں ڈوب چکے ہیں۔ حکومت کسانوں کی خودکشی روکنے میں ناکام ہوچکی ہے اور کسانوں کی خودکشی کے معاملہ میں تلنگانہ ملک میں چوتھے مقام پر ہے۔ کے سی آر حکومت نے ایک لاکھ روپئے تک قرض کی معافی اسکیم پر عمل نہیں کیا ۔ کسانوں کو رعیتو بیمہ اسکیم سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ مرکزی وزیر فینانس نے کہا کہ تلنگانہ میں نفع بخش بجٹ خسارہ بجٹ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھاری قرض حاصل کیا جارہا ہے اور اس بارے میں سوال کرنے کا اختیار مرکز کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں جنم لینے والا ہر بچہ 1.25 لاکھ روپئے کا قرض دار ہے۔ کے سی آر حکومت قرض حاصل کرتے ہوئے ریاست کو معاشی بحران سے دوچار کرچکی ہے۔ کاما ریڈی میں لوک سبھا حلقہ کی سطح پر جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ ر