17 ستمبر کو انتخابی منشور کی اجرائی، مختلف طبقات کیلئے علحدہ ڈیکلریشن جاری کرنے ریونت ریڈی کی حکمت عملی
حیدرآباد۔/11 جون، ( سیاست نیوز) کرناٹک کی کامیابی کے بعد کانگریس پارٹی نے تلنگانہ میں کرناٹک کی طرز پر 5 اہم وعدوں کی بنیاد پر چناؤ لڑنے کی تیاری کرلی ہے۔ کانگریس نے انتخابی منشور کے علاوہ عوام سے پانچ اہم وعدے کئے تھے جس کی بنیاد پر پارٹی کو غیر معمولی عوامی تائید حاصل ہوئی تھی۔ کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ کی پارٹی قیادت کو کرناٹک ماڈل اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے جس کے بعد صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے 5 اہم اعلانات کو قطعیت دی ہے۔ تلنگانہ میں پارٹی کا انتخابی منشور 17 ستمبر کو جاری کیا جائے گا تاہم اس سے قبل راہول گاندھی یا پرینکا گاندھی کے ذریعہ تلنگانہ عوام کیلئے پانچ اہم وعدے کئے جائیں گے۔ راہول گاندھی نے ورنگل میں کسانوں کے جلسہ عام میں بعض وعدے کئے تھے اس کے علاوہ ریونت ریڈی نے پدیاترا کے موقع پر عوام سے بعض وعدے کئے۔ پارٹی پانچ اہم وعدوں میں کسانوں کو 2 لاکھ روپئے قرض معافی، غریبوں کو پکوان گیس سلینڈر کی 500 روپئے میں سربراہی، بیروزگار نوجوانوں کو 4 ہزار روپئے ماہانہ الاؤنس، اقتدار کے پہلے سال 2 لاکھ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات اور طالبات میں الیکٹرک بائیک کی تقسیم شامل ہیں۔ پارٹی نے کسانوں کی پیداوار کیلئے اقل ترین امدادی قیمت، رعیتو بندھو اسکیم کی رقم میں اضافہ اور ہر سال جاب کیلنڈر کی اجرائی کا وعدہ کیا ہے۔ ریونت ریڈی اور بھٹی وکرامارکا نے پدیاترا کے دوران سماج کے مختلف طبقات سے کئی وعدے کئے جنہیں انتخابی منشور میں شامل کیا جائے گا۔ کرناٹک میں 5 وعدوں پر عمل آوری کا کابینہ کے پہلے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی نے انتخابی منشور میں شامل کئے جانے والے اُمور کو ماہرین کے ذریعہ قطعیت دینے کا کام شروع کردیا ہے۔ کسانوں، نوجوانوں بالخصوص بیروزگار نوجوانوں، پسماندہ طبقات، دلت، خواتین اور اقلیتوں کی تائید حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ کانگریس کو تلنگانہ کے علاوہ چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بھی اسمبلی انتخابات کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ ریاستوں میں بھی کانگریس مقامی ضروریات اور عوام کے مطالبات کے تحت 5 اہم وعدوں کو قطعیت دے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کمان سے مشاورت کے بعد تلنگانہ میں انتخابی منشور کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ریونت ریڈی نے سماج کے اہم طبقات کیلئے علحدہ ڈیکلریشن کی اجرائی کا فیصلہ کیا جس کے تحت مختلف طبقات کے علحدہ علحدہ جلسے منعقد کئے جائیں گے جن میں پارٹی کے قومی قائدین کو مدعو کیا جائے گا۔ کسانوں، پسماندہ طبقات اور بیروزگار نوجوانوں کے تین بڑے جلسہ عام مختلف اضلاع میں منعقد کئے گئے ہیں۔ر