تلنگانہ میں جی ایس ٹی سے متعلق 1000 کروڑ کا اسکام منظر عام پر

   

سابق چیف سکریٹری سومیش کمار کے خلاف مقدمہ درج، آئی آئی ٹی حیدرآباد اور کمرشیل ٹیکسیس کے بعض عہدیدار بھی ملوث

حیدرآباد 29 جولائی (سیاست نیوز) ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی مختلف محکمہ جات کے اسکامس منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ تازہ ترین اسکام میں جی ایس ٹی سے متعلق 1000 کروڑ کا معاملہ منظر عام پر آیا جس میں سابق چیف سکریٹری اور سابق حکومت کے مشیر سومیش کمار کے علاوہ کمرشیل ٹیکسیس ڈپارٹمنٹ کے 2 اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا اسکام ہے جس میں سابق چیف سکریٹری رتبہ کے عہدیدار کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سنٹرل کرائم اسٹیشن (سی سی ایس) حیدرآباد نے سومیش کمار اور کمرشیل ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے 2 سینئر عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جو جی ایس ٹی کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔ سومیش کمار سابق بی آر ایس دور حکومت میں محکمہ کمرشیل ٹیکسیس کے نگرانکار تھے۔ جوائنٹ کمشنر کمرشیل ٹیکسیس سنٹرل کمپیوٹر ونگ نامپلی کے روی کنوری کی شکایت پر 26 جولائی کو مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں عہدیداروں کے علاوہ ایک خانگی کمپنی پلانٹو ٹیکنالوجیز پرائیوٹ لمیٹیڈ اور آئی آئی ٹی حیدرآباد کے اسسٹنٹ پروفیسر شوبھن کمار کے نام شامل کئے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹیکس ویریفکیشن کے دوران عہدیداروں کو اِس بات کا پتہ چلا کہ آئی آئی ٹی حیدرآباد نے 11 کیسیس کو مخفی رکھا ہے۔ تحقیقات کے دوران تلنگانہ میں 1000 کروڑ کی بے قاعدگیوں کا پتہ چلا۔ بتایا جاتا ہے کہ سومیش کمار اور دیگر عہدیداروں کی ایماء پر ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا سے چھیڑ چھاڑ کی گئی اور مقدمات کے سلسلہ میں عہدیداروں کو ہدایت دی گئی۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ بگ لیپ ٹیکنالوجیز اور سلیوشنس پرائیوٹ لمیٹیڈ نامی کمپنیوں کے جی ایس ٹی میں بے قاعدگیاں کی گئی ہیں۔ ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر ہی ریکارڈ میں ادائیگی درج کی گئی اور دونوں کمپنیوں کے معاملہ میں سرکاری خزانہ کو 25.5 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ محکمہ کمرشیل ٹیکسیس نے آئی آئی ٹی حیدرآباد کو کمرشیل ٹیکسیس ڈپارٹمنٹ کے سافٹ ویر کی تیاری کے لئے خدمات حاصل کی تھیں۔ تلنگانہ میں موجود ٹیکس دہندگان کی جانب سے داخل کئے گئے ریٹرنس پر جائزہ رپورٹ پیش کرنا سرویس پرووائیڈر کی ذمہ داری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں کمپنیوں کے ڈیسک آڈٹ میں تضاد پایا گیا اور آئی آئی ٹی حیدرآباد کی رپورٹ میں اِس کا کوئی تذکرہ نہیں۔ کمرشیل ٹیکسیس ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار کو حقائق کا پتہ چلانے کیلئے آئی آئی ٹی حیدرآباد دورہ کی ہدایت دی گئی۔ مذکورہ عہدیدار نے کئی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ۔