باحجاب جج کی بیٹی کو گھر روانہ کرنے کا واقعہ، اسکول پرنسپل اور عملہ کیخلاف فوجداری مقدمات
حیدرآباد ۔ 24 جون (سیاست نیوز) ریاست کرناٹک کے بعد اب ریاست تلنگانہ میں حجاب پر اعتراض کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے! کل تک سنتوش نگر کے ایک کالج میں حجاب والی مسلم لڑکیوں کو امتحان دینے سے روک دیا گیا تھا تو اب ایک تازہ واقعہ میں جج کی بیٹی کو اسکول سے مبینہ طور پر روانہ کردیا گیا چونکہ لڑکی حجاب میں اسکول پہنچی تھی۔ اس واقعہ کے بعد حیدرآباد و ریاست کے مختلف مقامات پر سنسنی پھیل گئی۔ ایک دسویں جماعت کی طالبہ کو حجاب استعمال کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے گھر روانہ کردیاگیا۔ لڑکی نے سارے واقعہ کی داستان کو والدین سے بیان کرنے کے بعد پولیس میں شکایت کی۔ تاہم حیات نگر پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے زی اسکول کے خاطی عملہ کے خلاف فوجداری مقدمات کو درج کرلیا ہے اور اس سلسلہ میں مصروف تحقیقات ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق زی اسکول میں اس شکایت گذار لڑکی نے جاریہ سال داخلہ لیا تھا اور اسکول جارہی تھی۔ لڑکی جو حجاب میں اسکول پہنچی تھی اس لڑکی کو کلاس روم میں داخل ہونے سے مبینہ طور پر روک دیا گیا اور اسکول پرنسپل اور کلاس ٹیچر پر الزام ہیکہ لڑکی کے حجاب پر انہوں نے اعتراض کیا اور اسکارف اتارنے پر مجبور کردیا اور اسکارف و حجاب کے ساتھ کلاس میں داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ لڑکی جب گھر پہنچی تو اس نے دلآزاری کے واقعہ سے والدین کو واقف کروایا اور پولیس سے شکایت کی گئی۔ مسلم لڑکیوں کے حجاب پر اعتراضات کے واقعات میں اضافہ تلنگانہ میں تشویش و بے چینی کا سبب بنا ہوا ہے۔ اسکول کی پرنسپل پورنما سریواستو اور ٹیچر مادھوی کویتا کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیا گیا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں دن بہ دن بڑھتے ہوئے ایسے واقعات کو سازش کا حصہ تصور کیا جانے لگا ہے۔ برقعہ پوش اور باحجاب لڑکیوں کے ساتھ نسلی امتیاز کے واقعات اور حجاب پر اعتراض فرقہ پرست ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ کا کہنا ہیکہ ایسے واقعات ایک خطرناک رجحان اور حالات کی پیش قیاسی کررہے ہیں۔ ایسے حالات پر قابو پانے کیلئے اور سماج کو تفریقہ سے بچانے کیلئے حکومت ہی کو مؤثر اور سخت اقدامات کرنے چاہئے تاکہ اس طرح کی ذہنیت کا فروغ نہ صرف سماج میں بے چینی بلکہ ترقی میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ع