تلنگانہ میں حکومت سے خواتین گروپس کیلئے ’ مہیلا شکتی ‘ کینٹین قائم کرنے کی تجویز

   

مختلف محکمہ جات ، سرکاری دواخانوں ، بس اسٹانڈس اور بس اسٹیشنوں پر کینٹین کے قیام کا جائزہ لینے چیف سکریٹری کی ہدایت
حیدرآباد۔13۔جون(سیاست نیوز) تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے خواتین کے گروپس کے لئے ’’مہیلا شکتی‘‘ کینٹین قائم کئے جائیں گے۔چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی ہدایت کے بعد چیف سیکریٹری محترمہ سانتھی کماری نے آج مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیدارو ںکے ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے آئندہ 2سال کے دوران150 کینٹین شروع کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ محترمہ سانتھی کماری نے بتایا کہ ریاست کے تمام ضلع کلکٹریٹ کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے دفاتر ‘ سرکاری دواخانوں اوربس اسٹینڈ و بس اسٹیشنوں کے پاس ان مہیلا شکتی کینٹین کو قائم کرنے کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔انہو ں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے کئے جانے والے ان اقدامات میں بتایا گیا کہ کیرالہ میں جاری ’انا کینٹین ‘ اور بنگال میں جاری ’دیدی کا رسوئی ‘ اسکیم کے مطالعہ کے بعد ریاستی حکومت نے اس بات کا فیصلہ کیاہے کہ تلنگانہ کی خواتین کو بااختیار بنایا جائے۔ حکومت کے فیصلہ کے مطابق ریاست میں خواتین کی تنظیموں کو مستحکم کرتے ہوئے انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان اقدامات کے تحت ریاستی حکومت نے خصوصی کینٹین شروع کرتے ہوئے ان کے انتظامات خواتین کی تنظیموں کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیہی خواتین کے لئے شروع کی جانے والی اس اسکیم کے لئے حکومت کی جانب سے خواتین کی تنظیموں کو خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی اور انہیں کینٹین چلانے کے طریقہ کار سے واقف کروایا جائے گا۔ اس اجلاس میں محترمہ سانتھی کماری کے علاوہ پرنسپل سیکریٹری محکمہ مال مسٹر نوین متل ‘ کمشنر پنچایت راج محترمہ انیتا رامچندرن ‘ کمشنر محکمہ صحت مسٹر کرنن کے علاوہ انڈومنٹ کمشنر مسٹر ہنمنت راؤ کے علاوہ ٹورازم کارپوریشن منیجنگ ڈائریکٹر مسٹر رمیش نائیڈو کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ محترمہ سانتھی کمار ی نے اجلاس میں موجود عہدیدارو ںکو اس بات کی ہدایت دی کہ وہ اس سلسلہ میں جامع منصوبہ بندی کرتے ہوئے اسے حکومت کو پیش کرنے کی تیاری کریں۔حکومت کی جانب سے مجوزہ اس اسکیم پر مؤثر عمل آوری کے لئے محترمہ سانتھی کماری نے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اس پراجکٹ کے آغاز سے قبل پائیلٹ پراجکٹ تیار کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کو یقینی بنائیں تاکہ اس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ 2برسوں کے دوران 150 مہیلا شکتی کینٹین کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔3