تلنگانہ میں حکومت سے وعدوں پر عمل آوری، کانگریس 20 سال تک اقتدار پر رہے گی

   

سابقہ حکومت کے دس سالہ دور میں ریاست بدحالی کا شکار، ڈپٹی چیف منسٹر ملوبھٹی وکرمارکا کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔27جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس حکومت آئندہ 20 سال تک اقتدار میں رہے گی اور عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔ بھارت راشٹرسمیتی حکومت نے گذشتہ 10 برسوں کے دوران عوام کو دھوکہ دیا اور ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کام کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر فینانس مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پر جاری مباحث کے اختتام پر اپنے جواب میں یہ بات کہی ۔ انہو ںنے بتایا کہ کانگریس نے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد عوامی مفادات کی تکمیل کے کاموں کا فوری طور پر آغاز کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی آر ایس قائدین حکومت کی جانب سے زرعی شعبہ کے لئے 72ہزار کروڑ کی تخصیص کے باوجود حکومت پر تنقید کر رہے ہیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ کانگریس کے دور حکومت میں کسانوں کی خوشحالی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد کی ترقی کے لئے جامع منصوبہ بندی اور 10 ہزار کروڑ کی تخصیص پر بھی اپوزیشن جماعت کو اعتراض ہے جبکہ ان کے دور حکومت میں حیدرآباد کی ترقی کے سلسلہ میں بی آر ایس نے محض اعلانات کئے جبکہ عملی اقدامات سے مسلسل گریز کیا جاتا رہا ہے۔ مسٹر بھٹی وکرمارک نے کہا کہ حکومت نے شہر حیدرآباد کی ترقی کے لئے نہ صرف فنڈس کی تخصیص عمل میں لائی ہے بلکہ شہر کو عالمی معیار کے شہر میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جو کہ شہرحیدرآباد اور شہریوں کی معیشت کو مستحکم بنائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ریاست میں برقی پالیسی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے روشنا س کروائی جانے والی شفاف برقی پالیسی پر جلد عمل آوری کی جائے گی۔ انہوں نے کانگریس حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے بجٹ کو عوامی جذبات کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے بجٹ کو گذشتہ حکومت کے دور میں دیگر مدات میں خرچ کیا جاتا رہاہے اور اس فنڈ کو دیگر کاموں میں استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی رہی ہے لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے دلت اور قبائل طبقات کے لئے 17 ہزار کروڑ کی رقم مختص کئے جانے کے باوجود اپوزیشن کانگریس پر اعتراض کررہی ہے جس کی اپوزیشن کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اپنے اپوزیشن کی جانب سے بجٹ پر ردعمل اور مباحث کے اختتام کے بعد اپنے جواب کے دوران کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن اپوزیشن کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے امکنہ کے سلسلہ میں جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے تحت حکومت کی جانب سے 4.5 لاکھ مکانات کی اندرمااسکیم کے تحت تعمیر کا منصوبہ ہے۔ حکومت نے ریاست کے ہر ضلع میں انٹیگریٹیڈ تعلیمی کیمپس کی تعمیر کا جو منصوبہ تیار کیا ہے اس منصوبہ کے تحت ریاست کے ہر ضلع میں عالمی معیار کے تعلیمی کیمپس کے قیام کے اقدامات کئے جار ہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت میں شامل کابینی وزراء کانگریس کی انتخابی مہم کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں پر مؤثر عمل آوری کے سلسلہ میں کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے شہر حیدرآباد میں ہنر کو فروغ دینے کے لئے ریاستی سطح کی یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کیا جا چکا ہے اور تلنگانہ اسکل یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہاہے۔ وزیر فینانس نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے رعیتو بھروسہ پر عمل آوری کے سلسلہ میں مذاکرات جاری ہے۔ حکومت نے تلنگانہ کے ہرضلع میں ٹکنالوجی سنٹرس کے قیام کو منظوری دی ہے اور جلد ہی ریاست میں موجود 65 آئی ٹی آئیز کو ترقی دیتے ہوئے اسے ٹکنالوجی کے مراکز کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے خواتین کو مفت بس کی سہولت کی فراہمی کے علاوہ 200یونٹ مفت برقی کی سربراہی اور 500 روپئے میں گیاس سیلنڈر اسکیم پر عمل آوری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد انتخابی وعدوں پر عمل آوری کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور 64 ہزار جائیدادوں پر تقررات کے احکامات کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ کسانوں کے مسائل پر اپوزیشن کو بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے لیکن بعض گوشوں سے کسانوں کے قرض معاف کئے جانے کا مضحکہ اڑاتے ہوئے ان کی تضحیک کی جار ہی ہے۔ انہو ںنے بتایاکہ جلد ہی حکومت کی جانب سے زرعی مزدوروں کو 12 ہزار جاری کئے جائیں گے۔انہو ںنے بتایا کہ شہر حیدرآباد کو منجیرا سے پینے کے پانی کی سربراہی بھی کانگریس کے دور میں شروع ہوئی تھی اور شہر حیدرآباد میں میٹرو ریل کے کام بھی کانگریس حکومت کا کارنامہ ہے ۔ مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے کہا کہ جن لوگوں نے گذشتہ 10 برسوں کے دوران کچھ نہیں کیا وہ کانگریس کو حکمرانی کا طریقہ سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس نے تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے سے قبل جو وعدے کئے تھے انہیں پورا کررہی ہے اور حکومت کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ تمام وعدوں پر عمل آوری کو یقینی بنائے گی۔3