تلنگانہ میں خاتون آئی پی ایس عہدیداروں میں بتدریج اضافہ

   

حیدرآباد ۔ 23 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : ریاست تلنگانہ میں اس وقت 128 آئی پی ایس افسران اور تین ریٹائرڈ آئی پی ایس افسران ہیں جو او ایس ٹی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ان میں 32 خواتین ہیں جن میں تین مرکزی خدمات میں ہیں باقی ریاست میں اے ایس پی سے لے کر ڈی جی پی رینک تک خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ چھ خواتین آئی پی ایس افسران اہم محکموں کی سربراہی کررہی ہیں ۔ پہلی بار خواتین آئی پی ایس افسران تلنگانہ ہوم اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے تحت اہم محکموں کی سربراہی کررہی ہیں ۔ ایک طرح سے آئی پی ایس میں شامل ہونے والی خواتین کی تعداد میں بتدیج اضافہ ہورہا ہے ۔ وہیں دوسری طرف خواتین اہم محکموں کی سربراہی کر کے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہی ہیں ۔ متحدہ ریاست کے مقابلے میں یہ پہلی بار ہے کہ خواتین نے کچھ محکموں کی قیادت کی ہے جو کہ اہم ہے ۔ l چاروسنہا 1996 بیاچ کی آئی پی ایس افسر ہیں انہوں نے 2014 میں تلنگانہ سی آئی ڈی کی پہلی خاتون سربراہ کے طور پر چارج سنبھالا ۔ اگرچہ وہ ابھی تک آئی جی کے عہدے پر ہیں لیکن اس وقت کے چیف کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد انہوں نے ذمہ داریاں سنبھال لیں ۔ بعد میں وہ مرکزی خدمات میں چلی گئیں ۔ اور سی آر پی ایک بہار ، جموں و کشمیر اور جنوبی سیکٹر کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون آئی پی ایس بن گئیں ۔ سات سال بعد وہ حال ہی میں تلنگانہ کیڈر میں واپس آئی ہیں ۔ ریاستی حکومت نے انہیں اہم محکموں کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ فی الحال وہ سی آئی ڈی ، خواتین کے تحفظ کے ڈیویژن اور شی ٹیم کی چیف کے طور پر تین ذمہ داریاں نبھارہی ہیں ۔ اور اے سی بی کی ڈی جی بھی ہیں ۔ وہ اے سی بی کی پہلی خاتون ڈی جی ہیں ۔l شیکھا گوئل جو اترپردیش سے 1994 بیاچ کی افسر ہیں انہوں نے شروع میں جموں و کشمیر کیڈر میں خدمات انجام دیں اور بعد میں آندھرا پردیش کیڈر میں منتقل ہوگئیں ۔ متحدہ ریاست کی تقسیم کے بعد انہیں تلنگانہ کے لیے منتخب کیا گیا ۔ حیدرآباد کمشنریٹ میں کرائم برانچ کی ایڈیشنل ڈی جی پی ہونے کے علاوہ انہوں نے سی آئی ڈی چیف کی حیثیت سے کئی اہم مقدمات کی نگرانی بھی کی ۔ انہوں نے سائبر سیکوریٹی بیورو کی سربراہ کے طور پر بین ریاستی کارروائیوں کے ذریعے سائبر کرائم گینگ کو کنٹرول کرنے میں اپنا نام روشن کیا ۔ انہوں نے متاثرین کی رقم کو مجرموں تک پہنچنے سے روکنے میں اپنی قابلیت کا ثبوت دیا ہے ۔ انہوں نے خواتین کے تحفظ کے ڈیویژن کے سربراہ کے طور پر بھی اپنی شناخت بنائی ہے ۔ فی الحال وہ ٹی جی سی ایس بی کی ڈائرکٹر ہیں اور ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈ ی جی کے اہم عہدے پر تعینات ہونے والی پہلی خاتون آئی پی ایس افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں ۔l بی سمتی ریڈی کو متحدہ ریاست میں ڈی ایس پی کے طور پر منتخب کیا گیا تھا اور وہ 2006 بیاچ کے ذریعہ آئی پی ایس افسر بن گئیں ۔ ڈی ایس پی کے طور پر اپنے کام کے ذریعے شناخت بنائی ۔ اب انہیں اسپیشل انٹلی جنس برانچ کی سربراہ کے طور پر نادر موقع ملا ہے ۔ اگرچہ ایس آئی بی تلنگانہ انٹلی جنس کا ایک لازمی حصہ ہے ۔ لیکن ایس آئی بی کو پورے ملک میں ایک خاص پہچان حاصل ہے ۔ عام طو رپر ملک کی کسی بھی ریاست میں کوئی خاتون آئی پی ایس افسر نہیں ہے جو محکمہ کی سربراہی کررہی ہو جو ماؤ نواز سرگرمیوں پر نظر رکھے ۔ سمتی ریڈی اس عہدے پر تعینات ہونے والی پہلی خاتون ہیں ۔ انہوں نے دسمبر 2023 میں آئی جی کا عہدہ سنبھالا اور موثر طریقے سے ماؤنواز سرگرمیوں کو کنٹرول کیا ۔l سواتی لکرا 1995 بیاچ سے تعلق رکھنے والی آئی پی ایس تلنگانہ وومن سیفٹی ڈپارٹمنٹ کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ ریاست کی تشکیل کے بعد اُس وقت کی حکومت نے خواتین کے تحفظ کو ترجیح دی اور شی ٹیمیں تشکیل دی ۔ اس کے بعد سواتی لکرا کو طویل عرصے تک ان امور کی نگرانی کیں ۔ حیدرآباد کمشنریٹ سے شی ٹیموں کو پوری ریاست تک پھیلانے اور خواتین کے تحفظ کے محکمے کے قیام اور کئی ماڈیولز بنانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ۔ فی الحال وہ نہ صرف تنظیموں اور ہوم گارڈ محکموں کے ایڈیشنل ڈی جی پی ہیں بلکہ اسپیشل پروٹیکشن فورس کی ڈی جی بھی ہیں ۔ l ابھیلاشابٹ 1994 بیاچ آئی پی ایس افسر جن کا تعلق جھارکھنڈ سے ہے ۔ وہ فی الحال تلنگانہ پولیس اکیڈیمی کی ڈائرکٹر کے طور پر کام کررہی ہیں ۔ کانسٹبل سے لے کر ڈی ایس پی تک کے ٹرینی جو ریاست کے محکمہ پولیس کے لیے منتخب کئے جاتے ہیں انہیں وہاں تربیت دی جاتی ہے ۔ وہ اس اکیڈیمی کی پہلی خاتون ڈائرکٹر ہیں ۔ 1986 قیام ہونے والی اکیڈیمی کی پہلی خاتون ڈائرکٹر ہیں ۔ انہوں نے دسمبر 2023 سے اس سال فروری تک اکیڈیمی کی ڈائرکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ وہ چار ماہ کے لیے آندھرا پردیش گئی لیکن جون میں CAT کے احکامات کے ساتھ تلنگانہ کو واپس آگئی ۔ اس سے قبل وہ تلنگانہ اسپیشل پولیس کی سربراہ کے طور پر بھی طویل عرصے تک خدمات انجام دے چکی ہیں ۔ lاوڈیشہ سے آئی پی ایس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی خاتون ڈاکٹر سومیا مشرا ہیں ۔ 1994 بیاچ کی آئی پی ایس افسر نے متحدہ آندھرا پردیش کے کریم نگر ، وجئے واڑہ ، وشاکھا پٹنم ، وجیانگرم اور ورنگل اضلاع میں اے ایس پی اور ایس پی کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ ورنگل ایس پی کے طور پر خدمات کے دوران انہوں نے ہتھیار ڈالنے والے نکسلائٹس کے لیے بحالی کی پالیسی میں تبدیلی لائی ۔ جس سے بہت سے لوگوں کو زندگی کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کے قابل بنایا گیا ۔ وہ دسمبر 2023 سے تلنگانہ محکمہ جیل خانہ جات کی ڈی جی کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ انہوں نے نئی جیلوں کا قیام اور رہائی پانے والے قیدیوں کی فلاح و بہبود جیسی کئی اصلاحات شروع کر کے اپنی شناخت بنائی ہے ۔۔ ش